کوئٹہ: 07 جون: ناظم اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان سید عبد الرشید نے کوئٹہ میں اسلامی کی جمعیت کی صوبائی تربیتی ورکشاپ برائے ذمہ داران سے خطاب اور بلوچستان یونیورسٹی سمیت کوئٹہ کے مختلف کالجز کے طلبہ سے ملاقات میں کہا ہے کہ موجودہ بجٹ بھی سابقہ کی طرح اعداد وشمار کا ایک گورکھ دھندہ ہے۔ حکومت نے تعلیم جیسے حساس شعبہ کے ساتھ بہیمانہ مذاق کیا ہے۔ پانچ ملین کا اضافہ اونٹ کے منہ میں زیرہ دینے کے مترادف ہے۔ حکومتی عہدیداران پر تعیش زندگی ترک کر کے تعلیم کی حالت زار پر رحم کریں۔ انہوں نے کہا ہے کہ بلوچستان کے طلبہ کا استحصال بند کیا جائے۔ ان کے جائز حقوق دیئے جایئں تاکہ وہ بھی ملک کی ترقی میں اپنا کلیدی کردار ادا کر سکیں اور ان کی محرومیوں کا ازالہ ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم نے ہمیشہ پاکستان کے لئے قربانیاں دی ہیں مگر ان کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ برتا گیا۔ آج بھی بلوچستان کے نوجوان محب اسلام اور محب وطن ہیں مگر حکومت کے استحصالی رویہ نے انہیں مایوسی کا شکار بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجتماع عام میں ہزاروں بلوچ نوجوانوں کی شرکت انہیں امید کا جذبہ دے گی۔ انہوں نے کہا کہ اجتماع عام فقید المثال ہو گا۔ قومی سیشن میں پاکستان کے ہر مکتبہ فکر سے نمائندوں کی شرکت ملی وحدت اور قومی یگانگت کی فضا قائم کرے گی۔