Reply to comment

پاکستان کا تعلیمی نظام معاشرے کو طبقات میں تقسیم کر رہا ہے

اسلام آباد: 30 جون: او لیول میں عالمی ریکارڈ ہولڈر علی معین نوازش نے کہا ہے کہ ہمارے ملک کے تعلیمی نظام کو تبدیل کرنا بہت ضروری ہے۔ پاکستان میں تین نظام چل رہے ہیں۔ انگلش میڈیم، سرکاری سکولز اور مدارس میں بچوں کو پڑھایا جا رہا ہے اور تینوں کا سلیبس مختلف ہے۔ اگر میری حکومت ہو تو میں سارے ملک میں ایک نصاب مقرر کر دوں گا۔ ایکسپریس نیوز کے پروگرام کل تک میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم ہر بچے کو او لیول کی تعلیم دے سکتے ہیں، ا گر ہم او لیول جیسا نظام متعارف کروا دیں تو کروڑوں ڈالر کا سالانہ زرمبادلہ بھی بچا سکتے ہیں۔ او لیول جیسا نظام متعارف کروانے کے لئے ہم میں صلاحیت موجود ہے۔ صرف سیاسی عزم کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنی سیکیورٹی بہتر کرنا ہو گی۔ معاشی حالت بہتر بنانا ہو گی۔ اس کے علاوہ ہم نے اپنی مصنوعات کو عالمی مارکیٹ میں بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہم اپنے عوام سے پیسے اکٹھے کریں گے لیکن اس کے لئے حکومتی عیاشیوں پر پابندی لگا کر ایک مثال قائم کریں گے۔ ہماری کسی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مناسب انداز میں کیس نہیں لڑا ۔ ہم اس جنگ میں تعاون کو عالمی مارکیٹ میں رسائی سے مشروط کریں تو یہ مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بدقسمتی سے استاد کا معیار بہت نیچے آ گیا ہے ۔ دوسرے ملکوں میں ٹیچرز کو ہر شعبے پرترجیح دی جاتی ہے۔ پاکستان میں تعلیم کی بہتری کے لئے استاد کی سہولیات کو بڑھانا ہو گا۔ اگر ہماری حکومت بنے تو ہم استاد کا مقام بلند کر دیں گے۔
فیڈرل بورڈ کی پوزیشن ہولڈر حنا پرویز نے کہا کہ ہمارا تعلیمی نظام معاشرے کو مختلف طبقوں میں تقسیم کر رہا ہے ۔ آج کل تعلیمی اداروں میں اے لیول اور والے طالب علم کچھ مضامی میں ایف ایس سی والے طلبا سے بہت آگے ہوتے ہیں ۔ اگر شروع سے ہی ایک نظام ہو گا تو بڑی کلاسوں میں جا کر کسی قسم کی مشکلات نہیں رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مثبت سوچ کو فروغ دینا ہو گا اس کے لئے ہمیں رہنماوں کی ضرورت ہو گی۔ استاد اس معاملے میں بہترین کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہیں تربیت دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں ایکسپیورٹ امپورٹ کا نظام بہتر بنانا ہو گا۔ اس سے فنڈز پیدا ہوں گے اور گاڑیوں کی عیاشی بند کرنا ہو گی۔ میں بھی استاد کی تنخواہیں بڑھانے کے حق میں ہوں۔
گولڈ میڈلسٹ ڈاکٹربلال نے کہا کہ ہمارے ملک میں طبقاتی نظام تعلیم رائج ہے۔ ہم سارے ملک کو او لیول کی تعلیم نہیں دے سکتے ۔ بنیادی تعلیم کو اس قدر عام کر دینا چاہیئے کہ 100 فیصد بچے تعلیم بنیادی حاصل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ کر کے لئے تعلیم عام ہونی چاہیئے تاکہ لوگوں کو شعور آ سکے۔ چائلڈ لیبر پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ معیشت پر بوجھ اداروں کو پرائیویٹائز کرنا ہو گ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں وسائل بہت ہیں لیکن ان کو استعمال نہیں کیا جاتا ہے۔ بیرونی سرمایہ کاروں کے لئے راہ ہموار کرنا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ استاد کو سہولیات فراہم کی جائیں تو اس شعبے میں موجود لوگوں کی کارکردگی بڑھے گی۔
نسٹ میں زیر تعلیم معذور طالبہ لوزینہ شعیب نے کہا کہ اگر میری حکومت بن جائے تو میں سب سے پہلے جسمانی معذور بچوں کے لئے میڈیکل تعلیم کی اجازت دوں گی کیونکہ اس وقت پاکستان میں معذور بچے ڈاکٹر نہیں بن سکتے اس کے علاوہ بھی میں معذوروں کے لئے بہت سے اقدامات کروں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نوجوان بہت باصلاحیت ہیں اور ان کو چینلائز کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر میری حکومت بنے تو میں سب سے پہلے نوجوانوں کو اپنے ساتھ شامل کروں گی۔ انہیں بہتر راستے اور رہنمائی فراہم کی جائے گی۔ میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو اپنے کاز کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر معاشرے میں انصاف عام کیا جائے اور مساوات پیدا کی جائے تو معاشی مسائل بھی حل ہو جائیں گے۔ ہمارا ملک بہت خوب صورت ہے ۔ سیاحت کو فروغ دے کر بھی فنڈز حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ اگر میری حکومت بنتی ہے تو میں سب سے پہلے استاد اور شاگرد کا رشتہ مضبوط بناتی اور اساتذہ کو مناسب تربیت دلواتی، صرف تنخواہ نہیں بڑھانی چاہیئے بلکہ ان کو ہر قسم کی سہولیات دی جانی چاہیئں۔

شکریہ ایکسپریس لاہور بیک پیج

Reply

Image CAPTCHA
Enter the characters shown in the image.