کوئٹہ: 11 جون: گورنر بلوچسان نواب ذوالفقار علی مگسی نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ سرکایر شعبے کی پانچ یونیورسٹیاں صوبے کے طلبا و طالبات کو اعلی تعلیم دے رہی ہیں۔ ان یونیورسٹیوں میں ڈگری کی سطح کے مختلف پروگراموں کی تعلیم دی جا رہی ہے تاکہ سماجی، اقتصادی، سائنسی، انجینئرنگ اور دیگر مضامین کی موجودہ تعلیمی ضروریات پوری ہو سکیں۔ ان یونیورسٹیوں کو ہائر ایجوکیشن اور حکومت بلوچستان فنڈز فراہم کرتے ہیں۔ تاہم ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے فراہم کی جانے والی گرانٹ حل ہی میں 22.500 ملین روپے سے کم کر کے 18.500 ملین روپے کر دی گئی ہے جو کہ ناکافی ہے اور یونیورسٹیوں کی ضروریات سے بہت کم ہے جس کے نتیجے میں ان یونیورسٹیوں کے جاری منصوبوں کے لئے بھی مختص شدہ فنڈز کم ہو گئے ہیں۔
گورنر بلوچستان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بلوچستان پہلے ہی تعلیم میں بہت پیچھے ہے ور فنڈز میں کمی کی وجہ سے پہلے سے گھٹتے ہوئے معیار تعلیم پر مزید منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ صوبے میں اعلی تعلیم کو عالمی معیار کے مطابق برابر لانے اور مقررہ اہداف کو حاصل کرنے کی غرض سے یونیورسٹیاں مختلف تعلیمی ترقیاتی منصوبے شروع کرتی ہیں جن کے لئے لازما زیادہ فنڈز کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے اس امر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان ہر رکن اسمبلی کے لئے مالی سال 2012۔2011 میں دو سو پچاس ملین روپے مختص کر رہی ہے مگر سوائے محترمہ راحیلہ درانی کے جنہوںنے اپنے فنڈ سے تقریبا 400 ملین یونیورسٹیوں کے لئے مختص کئے ، دوسرے اراکین اسمبلی نے اعلی تعلیم کے نظر انداز کرت ےہوئے دیگر شعبوں میں اپنے فنڈز میں سے کم از کم دس ملین روپے مختص کریں تاکہ اس مد میں 590.538 ملین روپے کے خسارے کو دور کرنے میں مدد مل سکے۔ یہ عوامی نمائندوں کی جانب سے بلوچستان کی عوام ور مستقبل کی نسلوں کے لئے ایک عظیم کام ہو گا۔
شکریہ جنگ میرا شہر کوئٹہ