تعلیمی نظام کی بہتری کے لئے اقدامات کئے جائیں

کوئٹہ: 25 جون:سابق ناظم زرغون ٹاون حاجی صادق دین مندوخیل سٹی کونسل کےسابق کنوینرمحمدصدیق قریش سابق چیئرمین پبلک سیفٹی کمیشن اور سابق ناظم جاوید احمد خان نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ کوئٹہ شہر میں گزشتہ 50 سالوں میں ایک بھی سکول کی عمارت کا اضافہ نہیں ہوا۔ پرانے سکولوں میں کی کمروں کی تعمیر و توسیع کر کے وقت گزارا جا رہا ہے۔ اس وقت کوئٹہ شہر میں تیس سے زائد سکول جو کرائے کی عمارتوں میں تھے ان کو بے دخل کر دیا گیا ہے۔ جو اپنے اپنے علاقے سے دور بنائے گئے ہیں۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ محکمہ تعلیم کے افسران نے اس مرتبہ پرائمری ایجوکیشن کے لئے بجٹ میں کوئی تجویز اور منصوبہ نہیں دیا بلکہ سرکاری سکولوں میں افسروں کے بنگلے وار دفاتر کی تعمیر کی جا رہی ہے۔ سپیشل سکول جو تعداد کے لحاظ سے صوبہ کا سب سے بڑا سکول ہے اس کی ورکشاپ جو علاقے کے سابق ناظم میر اسلم رند نے اپنے اثر ورسوخ کے فنڈز سے تعمیر کروائی تھی کہ بچے ٹیکنیکل کام سیکھیں لیکن ورکشاپ بند کر کے یہاں پر ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن کے دفتر کی تعمیر شروع کر دی گئی ہے اگر اس عمل کو روکا نہ گیا تو ہم احتجاج پر مجبور ہوں گے اور تعلیمی نظام کی بہتری کے لئے اقدامات کئے جائیں۔

شکریہ جنگ میرا شہر کوئٹہ