طالبہ اغواء پر وزیر داخلہ کا نوٹس

اسلام آباد: 06 جون: وزیر داخلہ رحمان ملک نے 2 مئی کو G-6/2 سے مبینہ اغواء۔ طالبہ کے کیس میں ق لیگ کے سابق ایم پی اے سمیت دیگر بااثر ملزمان کو بچانے کے لئے من پسند افسر سے از سر نو انکوائری کرانے کا سخت نوٹس لے لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایکسپریس میں 4 جون کو شائع ہونے والی خبر پر وزیر داخلہ نے آئی جی کو میرٹ پر تفتیش کو یقینی بنانے اور طالبہ کو فوری بازیاب کرانے کے احکامات جاری کئے۔ ذرائع نے بتایا کہ وزیر داخلہ نے اوکاڑہ سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے ایک رکن قومی اسمبلی کے پولیس پر مبینہ دباو ڈالنے کی نشاندہی پر ڈی آئی جی آپریشنز بنیامین سے بات چیت کی اور انہیں حکم دیا کہ ملزمان چاہے کتنے ہی بااثر ہوں محنت کش کی بیٹی کو بازیاب کرایا جائے۔ وزیر داخلہ نے اس بات پر بھی حیرانگی کا اظہار کیا کہ ضلع بھر میں جرائم کے خلاف کام کرنے والی آپریشنل پولیس کے تمام اعلی افسران کو بائی پاس کر کےڈپلومیٹک سیکیورٹی کے انچارج ڈی آئی جی ڈاکٹر مجیب الرحمان کو کیونکر سونپی گئی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تحقیقات غیر جانبدار افسر سے کرائی جائیں۔

شکریہ ایکسپریس