ایبٹ آباد: 06 جون: گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کے عملے کے ہاتھوں بچیوں کے والدین نے سرٹیفکیٹ لینے شروع کر دیئے۔ بچیوں کو روزانہ مارنا، کبھی ایک کلاس میں کبھی دوسری کلاس میں بٹھانا، انہوں نے اپنا ذخیرہ بنا لیا۔ علاقے کے لوگوں نے تنگ آ کر مساجد میں اعلانات وغیرہ کر دیئے۔ تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کے عملے کے ہاتھوں علاقے کے لوگوں نے اپنی اپنی بچیوں کو سرٹیفکیٹ لینا شروع کر دیئے۔ سکول کے پرنسپل نے بچیوں کو روزانہ کبھی اگلی کلاس اور کبھی پچھلی کلاس میں بٹھانا شروع کر دیا ہے۔ علاقہ کے لوگوں نے ان کو بار بار سمجھانے کی کوشش کی مگر اس نے بچیوں کے ساتھ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنا شروع کر دیا ہے ۔ سفارشی بچیوں کو رزلٹ کے بعد بھی پاس کر دیا ہے مگر جہاں پر غریبوں کی بچیوں کا سوال ہے تو ان کو جان بوجھ کر فیل کیا گیا اور ان کے دو دو سال ایک ہی کلاس میں ہو چکے ہیں یعنی کئی بچیاں ہیں جن میں رپیٹر بھی ہیں مگر ان کی سفارش اور رشوت نہ ہونے کی وجہ سے بار بار فیل کیا جا رہا ہے۔ سکول پرنسپل کے خلاف گاوں کی مساجد میں اعلان بھی کیا گیا مگر تاحال کوئی اثر نہیں ہو رہا ۔ اس کے علاوہ اگر کوئی آدمی کسی کام کے سلسلے میں سکول سے رابطہ کرے تو سکول کا چوکیدار آگے سے صاف جواب دے دیتا ہے کہ عملے سے رابطہ نہیں ہو سکتا ۔ سخت منع ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کلاس فور سے وغیرہ سے روزانہ کا دودھ لسی انڈے وغیرہ بھی منگوائے جاتے ہیں۔ سکول کا عملہ ٹائم کی پابندی نہ کرتے ہوئے روزانہ لیٹ آتا ہے ۔ علاقے کے عوام نے محکمہ ایجوکیشن سے پرزور اپیل کی ہے کہ اس پرنسپل کو تبدیل کر کے کوئی اور پرنسپل تعینات کیا جائے تاکہ بچیوں کا مستقبل تباہ ہونے سے بچ سکے۔
شکریہ آج ایبٹ آباد