کوئٹہ میں آئی جے ٹی کی تعلیم بچاو ریلی

کوئٹہ: 07 جون: اسلامی جمعیت طلبہ بلوچستان کے زیر اہتمام تعلیم بچاؤ ریلی نکالی گئی جوچمن پھاٹک جناح روڈ سے ہوتی ہوئی پریس کلب پر اختتام پزیر ہوئی۔ تعلیم بچاؤ ریلی سے جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر عبدالمتین اخونذادہ اور ناظم بلوچستان اسلامی جمعیت طلبہ نورالدین غلزئی اور دیگر نے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ نظام تعلیم کسی بھی ملک کے تہذیبی ڈھانچے کا نہایت اہم ستون اور ترقی کی علامت ہوا کرتا ہے۔ بد قسمتی سے جس طرح ملک کا تہذیبی، سیاسی، اخلاقی اور معاشی ڈھانچہ فرسودگی کی علامت بن چکا ہے بالکل اسی طرح ہمارا تعلیمی نظام بھی منصوبہ بندی کے فقدان کا عکاس ہے۔ 64 سال سے حکمرانوں نے تعلیم پر کبھی بھی سنجیدگی سے غور نہیں کیا اور تعلیم ہی وہ شعبہ ہے جسے قومی بجٹ میں کبھی اپنا جائز مقام نہ مل سکا۔ ہمارا تعلیمی نظام اور تعلیمی ادارے تعلیمی تنزلی اور قوم کے مستقبل کی بربادی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ عمارتیں یقینا موجود ہیں مگر جدید سہولیات سے محروم، لیبارٹری موجود ہے مگر پریکٹیکلز کا سامان غائب، کلاسز موجود مگر معیاری اور قابل اساتذہ سے محروم، اعلیٰ تعلیم کےلئے ٹیلنٹ موجود مگر مواقع نہیں، لائبریز موجود مگر ترقی اور علم کی راہ میں معاونت کرنے والی کتابوں سے خالی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج تعلیم میں کمی کی بڑی وجہ فیسوں میں بلا روک ٹوک اضافہ بھی ہے۔ مہنگائی کے اس عالم میں جہاں آٹا خریدنے کی استطاعت مفقود ہو رہی ہے۔ تعلیم کے حصول کے لئے بھاری فیسیں وصول کرنا ظالمانہ طرز عمل ہے۔ ایک پڑھنے والا باصلاحیت طالب علم صرف پیسہ نہ ہونے کی بنا پر مزید تعلیم سے محروم اور ایک کم صلاحیتوں والا صرف پیسے کی بنیاد پر جس تعلیمی ادارے میں چاہے داخلہ لے سکتا ہے۔ اس تفریق کی اہم وجہ طبقاتی نظام تعلیم بھی ہے جہاں امیروغریب کے بچوں کے لئے الگ تعلیمی ادارے اور الگ نصاب موجود ہے۔ حکمران تعلیم کو مزید پرائیویٹائزیشن کی طرف لے جا رہی ہے جو کہ غریب اور قابل طلباء سے تعلیم کا حق چھیننے کے مترادف ہے۔ پورے صوبے میں اعلیٰ تعلیم کےلئے صرف دو تعلیمی ادارے، میڈیکل، انجینئرنگ اور ٹیکنیکل تعلیم کے لئے صرف ایک ایک ادارہ ہے، وہ بھی بنیادی سہولیات سے محروم۔ تعلیمی ادارے اور ہاسٹلز کباڑخانے کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ جہاں ہاسٹل موجود ہے وہاں پر بھی قبضہ مافیا، غنڈہ اور آوٹ سائیڈر کلچر حکومتی اور انتظامیہ کی سر پرستی میں قائم ہے۔ جس سے عام طالب علم پریشان اور مشکل کا شکار ہے۔ حکومت نے لورالائی اور تربت میں یونیورسٹی کیمپس قائم کئے جسکا فائدہ یہ تھا کہ غریب طالبعلم کو تعلیم اُسکے گھر کی دہلیز پر مل سکتا تھا لیکن آج تک سنجیدگی سے اس پر توجہ نہ دی گئی اور کیمپس آج بھی ڈیپارٹمنٹ و اساتذہ کی کمی اور بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ میڈیکل کالجز کے قیام کے اعلان پر بھی آج تک عمل درآمد نہ ہو سکا۔ مخلوط نظام تعلیم اور بوٹی مافیا و نقل کلچر نے ہمارے طلبہ کی صلاحتیں سلب کی ہیں۔ صوبے میں تواتر کے ساتھ اساتذہ طلبہ اور دیگر افراد کو قتل کیا جاتا ہے۔ آئے روز طلبہ کا اغواء اور لاشیں ملتی ہیں جو کہ صوبے کو مزید تعلیمی پسماندگی کی طرف لے جانے کی سازش ہے۔ اسلیئے فوری طور پر فیسوں میں کمی، طبقاتی اور مخلوط نظام تعلیم کا خاتمہ، نقل کلچر پر پابندی، ہاسٹلز کو قبضہ مافیا سے خالی کرایا جائے، لورالائی اور تربت کیمپس میں سہولیات کی فراہمی، ہر ڈویژن میں میڈیکل اور ٹیکنیکل کالجز کا قیام پر عملدرآمد، طالبات کےلئے الگ یونیورسٹی اور میڈیکل کالجز، تعلیم کیلئے کم از کم بجٹ کا 6 فیصد مختص، ایک نظام ایک زبان اور ایک نصاب پر مشتمل نظام تعلیم نافذ کیا جائے اور لا پتہ طلبہ کو منظر عام پر لایا جائے۔ اسلامی جمعیت طلبہ جو کہ پورے ملک کے تعلیمی اداروں کی ملک گیر منظم نمائندہ طلبہ تنظیم ہے اور 64 سال سے تعلیمی بہتری، اسلام کی سر بلندی اور اساتذہ و طلبہ کے درمیان رشتے کو قائم کرنے کےلئے اہم کردارادا کیا ہے، نے تعلیم بچاﺅ مہم شروع کی ہے جو کہ 20 جون تک جاری رہے گی۔ اس مہم کے دوران ہم تعلیمی مسائل کو اُجاگر کریں گے، پوسٹر، کتابچے تعلیمی و حکومتی نمائندے اور تعلیمی شخصیات سے ملاقاتیں، ریلیاں اور اے پی سی منعقد کی جائے گی۔ ہم ارباب اقتدار سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان تمام مسائل سے نبردآزما ہونے اور تعلیم کی گرتی ہوئی معیار کو بحال کرنے کےلئے ان مطالبات پر عمل در آمد کیا جائے تو تعلیمی صورتحال کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔