گزشتہ 3 سالوں میں 30 سے زائد اساتذہ قتل ہوئے

کوئٹہ: 02 جون: بلوچستان میں پچھلے تین سالوں میں آٹھ پروفیسرزسمیت تیس سے زائد اساتذہ ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوگئے۔ڈیڑھ سال قبل قتل ہونے والے صوبائی وزیر تعلیم کے قاتل بھی آج تک گرفتار نہیں ہوسکے ۔بلوچستان میں گذشتہ تین سالوں کے دوران نوجوانوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنیوالے آٹھ پروفیسرز ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی بھینٹ چڑھ گئے ۔جن میں بلوچستان یونیورسٹی کے پرووائس چانسلرپروفیسر صفدر کیانی، پروفیسرخورشید انصاری،پروفیسرناظمہ طالب اورپروفیسرصبا دشتیاری،تعمیر نوکالج کے پرنسپل پروفیسرفضل باری،کامرس کالج کے پروفیسر امانت علی بیگ ،ڈگری کالج کے پروفیسر ڈاکٹر محمد سرور اور بولان میڈیکل کالج کے پروفیسر ڈاکٹر ممتازحیدر نقوی شامل ہیں۔اسی طرح کوئٹہ اورصوبے کے دیگر اضلاع میں تیس کے لگ بھگ اساتذہ کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا۔بلوچستان کے صوبائی تعلیم شفیق احمد خان کو25 نومبر2009کو ان کے گھر کے سامنے فائرنگ کے قتل کیا گیا ڈیڑھ سال کا عرصہ بیت جانے کے باوجود ان کے قاتل بھی کیفر کردار تک نہیں پہنچ سکے۔

شکریہ جنگ