کوئٹہ: 18 جون: پشتون خواہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیر اہتمام کلی گل محمد ہائی سکول کی تعلیمی تباہی، پرنسپل کی عدم موجودگی ، سکول میں اکثر اساتذہ کی غیر حاضری اور ڈسپلن و قواعد و ضوابط کے فقدان کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ طلبا نے مختلف سڑکوں پر مارچ کیا اور نعرہ بازی اور سکول میں تعلیمی ماحول کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی اسمبلی سیکرٹری کبیر افغان، سمیع اللہ آغا اور یونس خان نے کہا کہ کلی گل محمد ہائی سکول عرصہ دراز سے زبوں حالی کا شکار ہے اور اساتذہ کی بڑی تعداد غیر حاضر رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکول میں 9 سو سے زائد طلبا زیر تعلیم ہیں جو دور دراز کے علاقوں سے آتے ہیں۔ ان تمام طلبا کا مستقبل صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم نے داو پر لگا دیا ہے۔دس بجے کے بعد اساتذہ اور طلبا سکول سے چلے جاتے ہیں۔ شدید موسم میں پینے کا پانی میسر نہیں ہے۔ سکول کی بلڈنگ بھی خستہ حالی کا شکار ہے اور سکول میں بنیادی تعلیمی سہولتوں کا بھی فقدان ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیاک ہ سکول کی بہتری کے لئے غیر حاضر اساتذہ کے خلاف تادیبی کاروائی عمل میں لائی جائے ۔ تمام بنیادی سہولتیں مہیا کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر سکول کی بہتری کے لئے فوری اقدامات نہ کئے گئے تو پشتون خواہ ایس او سخت احتجاج کرے گی۔
شکریہ جنگ میرا شہر کوئٹہ