یونیورسٹی ایکٹ تنازعہ پر وزیر اعلی نوٹس لیں

پشاور: 01 جون: پشاور یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن(پیوٹا) نے جامعہ پشاور یونیورسٹی کے ایکٹ کی صوبائی سمبلی سے منظوری میں غیر ضروری تاخیر اور وزارت قانون کے تاخیری حربوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے وزیر اعلی سے مسئلے کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پیوٹا کے صدر پروفیسر ڈاکٹر جوہر علی نے ایک بیان میں کہا کہ جامعہ پشاور کے ایکٹ 1974 میں راتوں رات ترمیم کر کے ریوائز ایکٹ 2010 کے نفاذ کے خلاف جب پشاور یونیورسٹی کے اساتذہ سراپا احتجاج بن گئے تو وزیر اعلی امیر حیدر خان ہوتی سے سیاسی بصیرت اور علم دوستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف اساتذہ نمائندوں کو اعتماد میں لے لیا بلکہ حکومتی ارکان جس میں ورکرز بھی شامل ہیں اور اساتذہ کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے کر دو ہفتوں میں سفارشات اور ترامیم کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی مگر یہ امر باعث حیرت ہے کہ چھ مہینے گزرنے کے باوجود معاملہ لٹکا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی طرف سے پروفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے جو متفقہ ڈرافٹ تیار کر لیا ہے جسے کینٹ ڈویژن نے منظور بھی کر لیا ہے تاحال وزارت قانون کے پاس پڑا ہے جو کہ باعث تعجب امر ہے۔

شکریہ آج