کوئٹہ: 20 مارچ: کوئٹہ کے اکثر طالب علموں نے شکایت کی ہے کہ انہیں سرکاری سکولوں میں داخلوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ نجی سکولوں میں فیسیں ان کے بس سے باہر ہیں۔ وہ آخر جائیں تو کہاں جائیں۔ کوئٹہ شہر کے طالب علموں نے جنگ کو بتایا کہ وہ مختلف نجی اداروں اور سرکاری سکولوں سے مختلف کلاسز میں پاس ہونے کا سرٹیفکیٹ لے کر مختلف ہائی اور مڈل سکولوں میں داخلے کے لئے مارے مارے پھر رہے ہیں مگر سرکاری سکولوں کی انتظامیہ یہ کہہ کر واپس کر دیتی ہے کہ گنجائش نہیں ہے ۔ طالبعلموں نے بتایا کہ مختلف سکولوں کے چکر لگاتے ہوئے انہیں دس سے پندرہ دن گزر چکے ہیں مگر سکولوں کی انتظامیہ نجی سکولوں کے سرٹیفکیٹ دینے سے گریزاں ہیں۔ طالب علموں نے کہا کہ آخر وہ داخلوں کے لئے کہاں جائیں۔ سرکاری سکولوں میں گنجائش نہیں جب کہ نجی سکولوں میں فیسیں ان کے والدیشن برداشت نہیں کر سکتے۔ جب کہ دوسری جانب وزیر داخلہ تعلیمی مہم چلا رہے ہیں اور تمام صوبے کے طالب علموں کے دعوت دے رہے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں سکولوں میں داخلہ لیں جب کہ کوئٹہ کے سکولوں میں گنجائش ختم ہو گئی ہے۔ شہر کے طالب علموں اور ان کے والدین نے صوبائی وزیر تعلم سے اور سیکرٹری تعلیم سے اپیل کی ہے کہ سرکاری سکولوں میں داخلوں کا حصول ممکن بنایا جائے اور نجی سکولوں کی فیسوں کو ایک سطح تک کنٹرول کیا جائے تاکہ غریب طالب علم بھی تعلیم حاصل کر سکیں۔
شکریہ جنگ