انسانی حقوق رپورٹ کا جواب غفار لانگو کی شہادت کی صورت میں ملا

کوئٹہ: 02 جولائی: بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے جاری کردہ بیان میں میر عبداالغفار لانگو کی شہادت پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی حقوق کمیشن رپورٹ کا جواب میر غفار مینگل کی لاش بلوچ قوم کو پیغام کی صورت میں دی گئی ہے جو اس طرح کے واقعات کو تسلسل سے روا رکھے ہوئے ہے اور اس طرح کے واقعات کا رونما ہونا نوجوانوں کو اغواء کر کے لاشیں پھینکنے کا سلسلہ ایک معمول بنا گیا ہے ۔ جو انسانی حقوق کے اداروں اور سیاسی دباو کو کم کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے۔ بلوچ قوم اس طرح کے سانحات پر پشیمان نہیں ہے لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ کوئی بھی اپنے جرم کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے اور انسانی حقوق کی رپورٹ کا جواب غفار لانگو کی شہادت کی صورت مں قوم کو دیا گیا ہے لیکن بلوچ قوم اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ قربانی اور جدوجہد کے لئے نوجوانوں کا لہو آجوئی کی پکار ہوتا ہے لیکن انسانی حقوق کی پامالی پر خاموشی اور نام نہاد جموری دور حکومت اور خصوصا صوبائی ھکومت نے انسانی حقوق کی رپورٹ کو غلط اور گمراہ کن قرار دینے والے غفار لانگو کی شہادت پر کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں؟ ۔
آیا یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور پامالی ہے یا نہیں یا غفار لانگو سمیت ہزاروں بلوچ جن کی مسخ شدہ لاشیں تسلسل سے بلوچ قوم کو دی جا رہی ہیں ان کا تعلق بلوچستان سے نہیں ہے اور بلوچ قوم اس درد میں اور مصیبت کے حالات میں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کرتی ہے کہ بلوچستان میں جاری جبر و استبداد کے نوجوانوں کو اغواء اور مسخ شدہ لاشوں کے سلسلوں کو بند کر کے بلوچ مسئلے میں مداخلت کرتے ہیں۔ بی ایس او چار جولائی کو شہید عمر بلوچ کی برسی کے حوالے سے تاریخی جلسہ عام میں بلوچ قوم اور جاری ظلم کے خلاف موثر آواز بلند کرے گی جو بلوچ قوم اور بلوچستان میں رونما ہونے والے حالات کے پیش نظر اہم پیش رفت ثابت ہو گی۔

شکریہ جنگ میرا شہر کوئٹہ