اسلام آباد: 04 جولائی: نیشنل لائبریری کے ڈائریکٹر جنرل چوہدری نذیر نے کہا ہے کہ دنیا بھر کے مقابلے میں پاکستان میں تحقیق اور بچپن سے کتب بینی کا شوق کم ہے۔ کتب بینی کے شوق کو پروان چڑھانے کے لئے پرائمری سطح سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ایکسپریس سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی نے کہا کہ ہمارے ہاں تحقیق کا رجحان خطے میں پانئے جانے والے ممالک کے مقابلے میں انتہائی کم ہے جس کو زیادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ایران کے ایک شہر کند میں لائبنریری ہے جس میں روزانہ بارہ ہزار لوگ مطالعہ کے لئے آتے ہیں۔ اسی طرح سنگارپور میں نیشنل لائبریری میں روزانہ آٹھ گھنٹے لوگ مطالعہ اور تحقیق کےل ئے آتے ہیں جب کہ ہمارےہاں سال بھر میں بیس سے بائیس ہزار لوگ آتے ہیں۔ لائبریری میں کوئی مطالعہ فیس نہیں ہے۔ بیرون ممالک سے تحقیق کے لئے آنے والےخطوط کو فوری طور پر مواد مہیا کر دیا جاتا ہے۔ جاپان، کوریا، بھوان سے بدھ مت کے متعلق معلومات کے حصول کے لئے خطوط آتے ہیں لائبریری کی تمام کتابیں ٹائٹل کے ساتھ آن لائن ویب سائٹ پر موجود ہیں جب کہ دیہی علااقوں میں موبائل لائبریری کے نام سے منصوبے کا آغاز کر دیا ہے۔
اسلام آباد نیشنل لائبریری آف پاکستان کے ڈیپارٹمنٹ آف لائبریرنز کے ڈائریکٹر جنرل چوہدری نذیر نے کہا ہے کہ نیشنل لائبریری آف پاکستان چاروں صوبوں اور آزاد جموں و کشمیر میں اپنی شاخیں کھولے گی۔ اور وفاقی دارالحکومت میں عالمی معیار کی لائبریری قائم کی جائے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ لائبریری میں تقریبا 20 لاکھ کتب، جرائد اور اخبارات ہیں اور لائبریری ک ےلئے ہر سال 10 ہزار نئی کتب خریدی جاتی ہیں۔
شکریہ ایکسپریس اسلام آباد سٹی