کوئٹہ: 07 جولائی: بلوچ طلباء ایکشن کمیٹی کے ترجمان نے بیان میں کہا ہے کہ اس وقت بلوچستان یونیورسٹی مکمل طور پر مسائل سے دوچار ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ معاملات کو درست کرنے کے بجائے خاموش تماشائی بنی ہائی ہے۔ اس کی تازہ مثال اکیڈمک کونسل کا اجلاس ہے جہاں ہلڑ بازی کرنے کی کوشش کی گئی ۔ یونیورسٹی کو تباہی سے دوچار کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس میں اساتذہ ایسوسی ایشن کے نام پر ایک گروہ ذمہ دار ہے۔ اس گروہ کا اب یہی کام رہ گیا ہے کہ ہر معمولی بات پر انتظامیہ کو بلیک میل کیا جائے۔ خواہ مخواہ کے احتجاج کئے جائیں، کلاسز کا بائیکاٹ کیا جائے اور یونیورسٹی کو مفلوج اور موجودہ یونیورسٹی کو ہر لحاظ سے ناکارہ بنا دیا جائے۔ اس حالت میں اساتذہ کے ایک مخصوص گروہ نے کلاسز کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔
یونیورسٹی کے انتظامی امور کو اب ایسے مقام پر لایا گیا ہے جہاں اس کے پاس صرف دو راستے ہیں ، اول یہ کہ وہ مکمل طور پر بلیک میل ہو کر مصلحت پسند بن جائیں اور یونیورسٹی کو مزید تباہی سے دو چار کریں۔ دوسری صورت یہ کہ وہ اس ادارے کو بچانے کی خاطر جرات مندی سے اقدامات کریں۔ بلیک میلنگ کی حوصلہ شکنی کریں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ اساتذہ کاوہ مخصوص گروپ جو یونیورسٹی کے لئے مسائل پیدا کر رہا ہے ان کا احتساب کیا جائے۔ احتجاج اور کلاسز کا بایکاٹ کرنے والے اساتذہ دراصل کلاسز نہیں لیتے ہیں۔
شکریہ جنگ میرا شہر کوئٹہ