Scholar ships of students vanished away

مٹہ: 12 جولائی: مٹہ تحصیل سے تعلق رکھنے والے 42 طلباء و طالبات کا فی کس اٹھارہ سو روپے وظیفہ غائب ، سرکاری لسٹ مین نام انے کے باوجود یہ طلباء و طالبات سکولوں، ڈاکخانے اور دیگر سرکاری مقامات کی چکر لگا لگا کر تھک گئیں۔ حکومت او رمحکمہ تعلیم انکوائری کر کے حقائق سامنے لا کر ان بچوں کو ان کا حق دیا جائے۔
تفصیلات کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی مٹہ تحصیل کے سابق جنرل سیکرٹری محمد شاہد عرف طوطا کے مطابق مٹہ تحصیل کے ایسے 42 طلباء و طالبات کی حکومتی وظیفہ غائب ہو کر یہ بچے چکر لگا لگا کر تھک گئیں اور مذکورہ 42 طالب علموں کی اٹھارہ سو روپے فی کس وظیفے کی بارے میں کسی کو پتہ نہیں۔ حکومت کے اہلکا رکہتے ہیں کہ ہم نے لسٹ کی بنیاد پر وظیفہ ڈاک خانے کو بھیج دی ہے۔ جب کہ ڈاک خانے سے معلومات حاصل کرنے پر کہا جاتا ہے کہ ہمارے پاس نہیں آئی ہے۔
محمد شاہد عرف طوطا نے محکمہ ایجوکیشن اور سوات کے ذمہ دار حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر انکوائری ک رکے ان بچوں کی داد رسی کی جائے۔ اور ان بچوں کو انکوائری حق پر ان کو در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور نہ کریں کیونکہ یہ ان بچوں کی ساتھ سراسر زیادتی ہے۔

شکریہ آزادی بیک پیج