Five banned colleges delivering education in Quetta

کوئٹہ: 12 جولائی: صوبائی دارالحکومت میں محکمہ تعلیم کی اجازت کے بغیر پانچ سے زائد کالجز مین تعلیم دی جا رہی ہے جس سے زیر تعلیم سینکڑوں طالب علموں کا مستقبل تاریک ہونے کا خدشہ ہے۔ محکمہ تعلیم نے کالجز کو این او سی جاری کرنے سے انکار کرتے ہوئے ان کالجز کے طلباء و طالبات کو امتحانات دینے پر پابندی لگا دی ہے۔ جب کہ بورڈ اور یونیورسٹی کو ان کالجز کی رجسٹریشن نہ کرنے کی بھی درخواست دے دی گئی۔
ذرائع کے مطابق کوئٹہ چہر میں محکمہ تعلیم کی اجازت کے بغیر سکولز و کالجز کھولے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے تعلیم کا معیار بھی گرتا جا رہا ہے۔ صوبے کے تعلیمی معیار بہتر بنانے کے لئے ڈائریکٹوریٹ کالجز نے ماسٹر پلان تیار کیا جس کے تحت کوئٹہ شہر میں قائم نجی کالجز کا سروے کیا جا رہا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ شہر کے علاقے سیٹلائٹ ٹاون کواری روڈ اور جناح ٹاون میں پانچ کالجز بغیر این او سی کے قائم کئے گئے ہیں جن میں اساتذہ سمیت دیگر سہولیات میسر نہیں اور زیر تلعیم طلباء و طالبات سے بھاری فیسیں وصول کی جا رہی ہیں۔ اس انکشاف پر ڈائریکٹوریٹ آف کالجز نے فوری طور پر ان کالجز کے طلباء و طالبات کے امتحانات دینے پر پابندی عائد کر دی ہے جس کی وجہ سے سینکڑوں زیر تعلیم طلبا و طالبات کا مستقبل داو پر لگ گیا ہے۔
اس سلسلے میں ڈائریکٹر کالجز سعد اللہ توخئی نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں جاری کالجز کو این او سی جاری نہیں کیا گیا جب کہ ایک کالج نے این او سی کے لئے کوئی درخواست نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ ان کالجز کے طلباء و طالبات امتحانات دے رہے تھے جن کے فوری طور پر ان کے امتحانات دینے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ بورڈ اور یونیورسٹی کو لکھا جا رہاہے کہ وہ ان کالجز کی رجسٹریشن نہ کریں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کالجز محکمہ تعلیم کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔

شکریہ جنگ میرا شہر کوئٹہ