اسلام آباد: 14 جولائی: قائداعظم یونیورسٹی ہراساں سکینڈل میں قائم ہراسمنٹ کمیٹی نے انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر نور مصطفٰی کو آج طلب کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی نور مصطفٰی اعوان سے ان پر طالبہ کی جانب سے ہراساں کرنے سے متعلق الزام کے ھوالے سے پوچھ گچھ کرے گی۔ کمیٹی نے اس معاملہ کی رپورٹ جلد وائس چانسلر کو پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق کمیٹی کے پاس پروفیسر نور مصطفٰی کے خلاف لڑکی کو ہراساں کرنے کے شواہد موجود ہیں جن میں سے ایک ثبوت وائس چانسلر آفس کا بھی ہے۔ ایک اعلی افسر نے نام نہ ظاہر کرنے پر بتایا کہ کمیٹی کو بتا دیا گیا کہ پانچ طالبات کے وفد نے جب تحریری شکایت جمع کروانے وائس چانسلر آفس میں آئے اس وقت متاثرہ لڑکی کو پروفیسر نور مصطفٰی کا فون آیا تھا۔ لڑکی نے موبائل فون کا لاوڈ سپیکر آن کیا جس کو وائس چانسلر نے بھی سنا اور کہا استغفر اللہ ۔ کمیٹی میں موجود ذرائع نے کہا کہ بدھ والے دن کمیٹی نے انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی فیکلٹی کو بھی طلب کیا جس میں ان سے پروفیسر نور مصطفیٰ کی ملازمت سے متعلق دیگر معلومات سمیت کردار کے بارے میں بھی سوال کئے گئے۔
ذرائع کے مطابق ایچ ای سی نے بھی ہراساں کے حوالے سے قائداعظم یونیورسٹی کو واضح ہدایت جاری کر دی ہیں کہ الزام ثابت ہونے پر ملزم کے خلاف کاروائی اور ملازمت سے برطرف کیا جائے۔ اس حوالے سے رابطہ پر ایس ای سی حکام نے کہا کہ ملکی تمام یونیورسٹیوں میں ہراسمنٹ کمیٹیاں بنانے کی ہدایت کی ہے۔ اگر کسی فریق کو تحفظات ہوں تو ایچ ای سی کے ہراسمنٹ سیل میں درخواست دے، ایچ ای سی بھی کاروائی کرے گا۔
شکریہ ایکسپریس بیک پیج