کوئٹہ: 15 جولائی: بلوچ طلباء ایکشن کمیٹی کے ترجمان نے مرکزی بیان میں کہا ہے کہ پی جی ایم آئی میں زونل میرٹ کے علاوہ کسی دوسری پالیسی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں تعلیمی ادارون پر جان بوجھ کر توجہ نہیں دی جا رہی ہے ۔ اوپن میرٹ کا نعرہ لگانا ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت ہے کیونکہ یہ نظام ابھی تک اسلام آباد میں قائم قائداعظم یونیورسٹی میں بھی نہیں ہے لیکن اس نظام کو بلوچ دشمن سوچ کے تحت بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں رائج کرانے کے لئے مختلف اداروں کا سہارا لیا جا رہا ہے ۔ کوٹہ سسٹم پاکستان کے مروجہ آئین کا ایک حصہ ہے جب تک پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت سے اس کو ختم نہیں کیا جا رہا یہ اپنی جگہ برقرار ہے۔
دوم یہ کہ پاکستان میں آئی ٹی یونیورسٹی واحد مثال ہے جہاں داخلہ کے لئے اوپن میرٹ کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے حالانکہ پاکستان کی سب سے بڑی اور سپریم یونیورسٹی قائداعظم یونیورسٹی میں بھی اوپن میرٹ نہیں ہے ۔بلوچ علاقوں سے ملنے والے تمام فنڈز ان ہی اضلاع پر خرچ کئے جائیں۔ ڈیرہ بگٹی سے نکلنے والی گیس کی تمام تر آمدنی پہلے ڈیرہ بگٹی اور بعد ازاں بلوچ علاقوں پر خرچ کی جائے ۔ لیکن ہمیں یہ ہرگز قبول نہیں کہ سوئی گیس کی آمدنی سے چلنے والے اعلی تعلیمی اداروں سے نام نہاد اوپن میرٹ کے نام پر بلوچوں کو بے دخل کیا جائے۔ بلوچ طلباء ایکشن کمیٹی ہر فورم پر بلوچ طلبائ تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر حقوق کا دفاع کرے گی۔
شکریہ جنگ میرا شہر کوئٹہ