کوئٹہ: 15 جولائی: پشتون خواہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے صوبائی میں کہا گیا ہے کہ کوئٹہ اور جنوبی پشتون خواہ کے دیگر علاقوں میں گزشتہ سال اپ گریڈ کئے گئے ہیں۔ سکولوں کو ایک سال گزرنے کے باوجود تدریسی سٹاف بالخصوص ایس ایس ٹی جنرل و ایس ایس ٹی سائنس کی پوسٹیں نہیں دی گئی ہیں جس کی وجہ سے ان سکولوں میں تدریسی عمل تاحال شروع نہیں ہو سکا۔ جو صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم کی پشتون دشمنی کی مثال ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ موجودہ صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم اخبارات میں تعلیم کے فروغ اور تعلیمی مواقعوں کی فراہمی کے نام نہاد دعوے کر کے عوام کو دھوکہ دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور اسی طرح گزشتہ تین سال کے بجٹ میں نئے تعلیمی اداروں کے قیام اور اپ گریڈیشن کے لئے اعلانات کئے جاتے ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے اور تمام تعلیمی اداروں میں صرف کلاس فور کی آسامیاں منظور کر کے ان پر اپنے ہی کارکنوں کو تعینات کیا گیا ہے جب کہ درس و تدریس کے لئے لازمی تدریسی عملے کی پوسٹیں منظور کرنے اور ان پر فی الفور تعیناتی عمل میں نہیں لایا جاتا۔ جس کی وجہ سے کوئٹہ جیسے گنجان آبادی پر مشتمل شہر اور صوبائی دارلخلافہ ہونے کے باوجود تمام تمام اپ گریڈ شدہ سکولوںمیں ایک سال گزرنے کے باوجود کلاسز شروع نہیں ہوئے ہیں۔ اور کاغذات کی حد تک مذکورہ سکولز اپ گریڈ ہوئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ اس تعلیم دشمن اور پشتون دشمن صورت حال کی ذمہ دار صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم کے افسران ہیں۔ جو عوامی خزانے کو تعلیمی مواقعں کی فراہمی پر خرچ کرنے کے بجائے اپنی بھاری تنخواہوںاور مراعات،کرپشن کمیشن پر خرچ کر رہے ہیں۔ اور موجودہ تعلیمی انتظامیہ اپنی قانونی فرائض جاری کرنے اور درست منصوبہ بندی کرنے میں ناکام ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر حکومت او رمحکمہ تعلیم کا یہی پشتون دشمن اور تعلیم دشمن طرز عمل مزید جاری رہا تو کوئٹہ جنوبی پشتون خواہ کے تمام دیگر اپ گریڈ شدہ گرلز و بوائز سکولوں کو تمام تدریسی سٹاف کی پوسٹیں منظور نہ کی گئی اور ان پر پبلک سروس کمیشن کے ذریعے تعیناتیاں میرٹ کے مطابق عمل میں نہ لائی گئی تو پشتون خواہ ایس او اس کے خلاف احتجاج کرے گی۔
شکریہ جنگ میرا شہر کوئٹہ