چکیسر: 20 جولائی: ضلع شانگلہ میں تعلیم کی زبوں حالی اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ ضلع کے 39 سکولوں کے 33 سکول عرصہ دراز سے پرنسپل کے سائے سے محروم ہیں۔ اسی طرح 90 ایس ای ٹی کی آسامیاں بھی گزشتہ کئی سالوں سے خالی پڑی ہیں جب کہ ایس ایس کی تعیناتی تو رات کی تاریکی میں سورج نکلنے کے مصداق ہے اس لئے اس کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
وزیر تعلیم آئے روز ستارف اور خصوصا ایس ای ٹی کی آسامیوں کو پورا کرنے کے بلند و بانگ دعوے تو کرتا ہے لیکن عملی کام صفر کے برابر ہے۔ اگر کسی ایس ای ٹی کا تبادلہ شانگلہ بھی کیا جاتا ہے تو اگلے روز اس کو واپس تبدیل کیا جاتا ہے۔ اس طرح ضلع شانگلہ کے زیادہ تر پرائمری سکولوں میں سٹاف کا فقدان ہے۔ 200،300 طلبہ وطالبات کو پڑھانے کےلئے ایک یا دو استاذہ دستیاب ہیں۔ جب کہ اکثر سکولوں میں گنتی کے صرف چند طلبہ کے لئے درجن بھر اساتذہ موجود ہیں لیکن اگر کبھی سکولوں میں سٹاف کی کمی کو پورا کرنے کے لئے ای ڈی او ایجوکیشن ان کا تبادلہ کر دیتا ہے تو تبادلہ کینسل کروانے کے لئے اوپر سے آرڈرز آ جاتے ہیں اور نوبت تو اکثریہاں تک آ پہنچتی ہے کہ ڈائریکٹ چیف منسٹر کی جانب سے تبادلہ منسوخ کرنے کے آرڈرز آ جاتے ہیں۔ محکمہ ایجوکیشن میں سیاسی پنڈتوں کی اس بے جا مداخلت نے ضلع شانگلہ کے تعلیمی میدان کا شیرازہ بکھیر کے رکھ دیا ہے۔ اور اگر ان سیاسی پنڈتوں کی مداخلت یوں ہی جاری ہی تو شانگلہ کی تعلیمی تباہی بس پل دو پل کی بات ہو گی۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ شانگلہ کی تعلیمی پسماندگی کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے اور کم از کم تعلیم کے میدان کو سیاست سے دور رکھا جائے ۔
بصورت دیگر شانگلہ کی تباہی کی ساری ذمہ داری صرف وار صرف صوبائی حکومت پر عائد ہو گی جنہوں نے شانگلہ کے تعلیمی میدان کو آبائی جیک کر کے ای ڈی او ایجوکیشن کو باندھ دیا ہے۔ کیونکہ شانگلہ کی تاریخ شاہد ہے کہ جس ای ڈی او نے بھی اپنے فرض کو صحیح طرح سےنبھانے کی کوشش کی ہے اسے فوری طور پر ضلع بدر کر دیا گیا ہے جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ شانگلہ میں تعلیم کسی اور کے رحم و کرم پر ہے ۔ اور اسی کی وجہ سے شانگلہ پر جہالت کے سائے اور گہرے بادل منڈلا رہے ہیں۔
شکریہ آزادی سٹی پیج