نوشہرہ: 20 جولائی: ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نوشہرہ محمد عذیر علی نے محکمہ تعلیم ضلع نوشہرہ میں جعلی طریقے سے بھرتی ہونے والی دو خواتین استانیوں کو برطرف ک رکے ان سے تنخواہوں کی واپس وصولی کا حکم دے دیا جن میں سینئر کلرک فیمیل آفس نوشہرہ کی بیوی بھی شامل ہے۔ ای ڈی او محمد عذیر علی نے بتایا کہ پچھلے دور میں جعلی اور غیر قانونی طریقوں سے بھرتی کے بارے تحقیقات شروع کی گئیں۔ اس ضمن میں انہیں معلوم ہو کہ سابق ای ڈی او ایجوکیشن حسنات گل کے جعلی دستخط سے صائمہ بیگم سی ٹی گورنمنٹ ہائی سکول گل ڈھیری فار گرلز اور نیاز پروین اے ٹی گورنمنٹ مڈل سکول گل ڈھیری کی ملازمت کا جعلی نوٹیفکیشن جاری کیا گی۔ا چنانچہ اس ضمن میں ھسنات گل سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بھی جعلی دستخطوں کی تائید کی۔
چنانچہ مطیع اللہ پرنسپل گورنمنٹ ہائی سکول رشیدہ نور جمال پرنسپل گورنمنٹ ہائی سکول بدرشی اور محترمہ ناہید اختر ہیڈ مسٹریس گورنمنٹ گرلز ہائی سکول نوشہرہ کینٹ کی قیادت میں تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے تحقیقات مکمل کی اور باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے نیاز پروین عربی ٹیچر گورنمنٹ مڈل سکول گلی ڈھیری اور صائمہ بیگم سی ٹی گورنمنٹ گرلز مڈل سکول گل ڈھیری روجہ محمد طاہر سینئر کلرک فیمیل آفس نوشہرہ کی برطرفی کا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے گورنمنٹ گرلز مڈل سکول کے کلرک کو ہدایت جاری کی کہ دونوں ٹیچرز کی پہلے دن سے 15 جولائی تک لی گئی تنخواہیں واپس لے کر قومی خزانے میں جمع کرائی جائیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سینئر کلرک زنانہ ضلع نوشہرہ محمد طاہر کو معطل کر کے اس کے خلاف بھی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے اور تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں اس کو باقاعدہ سزا دی جائے گی اور ان بھرتیوں میں اگر کوئی اور بھی ملوث ہوا تو اس کے خلاف بھی تحقیقات ہوں گی کیونکہ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ محکمہ تعلیم کے سابق اعلی افسر نے اپنی 45 سالہ بیوی اور دیگر رشتہ داروں کو بھی بھرتی کیا ہے۔
شکریہ مشرق خیبر پختون خواہ سے