LibraryMCQSSindh StudyFG StudyPunjab Study
PakStudy :Yours Study Matters

Recent Posts

Pages: [1] 2 ... 10
1
Agreement between Multan University of Engineering and National Skills University

ملتان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اور نیشنل سکلز یونیورسٹی میں معاہدہ
 ایم این ایس یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اور نیشنل سکلز یونیورسٹی اسلام آباد کے درمیان تدریس ، تحقیق ، نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں تعاون بڑھانے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ وائس چانسلر ایم این ایس یوای ٹی ڈاکٹر عامر اعجاز اور وائس چانسلر نیشنل سکلز یونیورسٹی اسلام آباد ڈاکٹر محمد مختار نے ایم او یو پر دستخط کیے۔ اس موقع پر تمام فیکلٹی ممبران اور رجسٹرار بھی موجود تھے۔
2
Government's decision to pass 10th and 12th class students
حکومت کا دسویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کو پاس کرنے کا فیصلہ
وزرائے تعلیم نے دسویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کو پاس کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیر صدارت بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس ہوئی۔
ذرائع کے مطابق اس کانفرنس کے دوران حکومت نے دسویں اور بارہویں جماعت کے تمام طلبا کو پاس کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
ذرائع نے بتایا کہ فیل ہونے والے طلبا کو رعایتی 33 نمبر دے کر پاس کیا جائے گا۔
وزرائے تعلیم نے فیصلہ کیا کورونا کے باعث دوبارہ فوری امتحانات ممکن نہیں۔
ذرائع کے مطابق  وزرائے تعلیم نے فیصلہ کیا کہ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات سال میں دوبار ہوں گے۔
وزرائے تعلیم نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ امتحانات کو سپلیمنٹری امتحانات کا نام نہیں دیا جائے گا۔
وزرائے تعلیم نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ آئندہ سال میٹرک امتحانات مئی اور جون میں ہوں گے۔
وزرائے تعلیم نے آئندہ برس نیا سیشن اگست میں شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
3
Wafaq Ul Madaris Al-Islamia Al-Rizvia Pakistan exam

وفاق المدارس الاسلامیہ رضویہ کے امتحانات شروع
وفاق المدارس الاسلامیہ رضویہ کے سرپرست صدر پیر سید محمد محفوظ مشہدی نے واضح کیا ہے کہ سالانہ امتحانات کے داخلے شروع ہو چکے ہیں۔30ستمبر داخلہ فارم جمع کروانے کی آخری تاریخ ہے۔ئر ایجوکیشن کمیشن سالانہ امتحانات 2022 ءکے بعد حسب ضابطہ وفاق المدارس الاسلامیہ رضویہ کی جاری کردہ سند پر معادلہ سرٹیفکیٹ جاری کرے گا۔
4

این سی او سی کا 24 اضلاع میں تعلیمی ادارے مزید ایک ہفتہ بند رکھنے کا فیصلہ
اسلام آباد: این سی او سی نے کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ملک بھر کے 24 حساس اضلاع میں تعلیمی ادارے ایک بار پھر مزید ایک ہفتہ کے لیے بند رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے نوٹی فکیشن جاری کردیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق این سی او سی نے کورونا پابندیوں میں ایک ہفتے کی توسیع کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت ملک بھر کے 24 حساس اضلاع میں تعلیمی ادارے مزید ایک ہفتہ بھر رہیں گے۔

اطلاعات کے مطابق کورونا کی تمام پابندیوں کا اطلاق ملک بھر کے 24 حساس اضلاع میں 15 ستمبر تک رہے گا، توسیع کا یہ فیصلہ کورونا صورتحال کے سبب ہیلتھ سسٹم پر پڑنے والے دباؤ کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

ان اضلاع میں ان ڈور اور آؤٹ ڈائننگ اجتماعات پر پابندی ہوگی، انٹرسٹی ٹرانسپورٹ بند رہے گی، کھیل اور تفریحی سرگرمیاں ممنوع ہوں گی،

این سی او سی نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ نے پنجاب، کے پی اور آئی سی ٹی کے 24 ہائی ڈیزیز اضلاع میں 12 ستمبر تک نافذ کردہ این پی آئی کو 15 ستمبر 21 تک بڑھا دیا گیا ہے جس کا جائزہ 15 ستمبر کو لیا جائے گا۔

یعنی پنجاب اور خیبر پختون خوا میں 12 ستمبر کو کھلنے والے اسکولز اب اس تاریخ کو نہیں کھلیں گے بلکہ 15 ستمبر کو جائزہ اجلاس میں اس حوالے سے فیصلہ ہوگا ان صوبوں کے اسکولز بھی کب کھولے جائیں۔

قبل ازیں وزارت تعلیم نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر این سی او سی کو تعلیمی اداروں سے متعلق تین تجاویز ارسال کی تھیں۔

اول تجویز میں کہا گیا تھا کہ تعلیمی اداروں کو پہلے کی طرح طلباء کی نصف تعداد کے ساتھ کھولا جائے۔ دوسری تجویز یہ تھی کہ تعلیمی ادارے تین دن مکمل بند اور تین دن کھولے جائیں جبکہ تیسری تجویز کیا گیا کہ تمام تعلیمی ادارے مزید ایک ہفتہ کے لیے بند کر دیئے جائیں۔

این سی او سی نے اسکول بند کرنے کی تجویز منظور کرتے ہوئے اس حوالے سے احکامات جاری کردیے ہیں۔

آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کا فیصلے کے خلاف ردعمل

دوسری جانب آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن نے تعلیمی ادارے مزید بند رکھنے کے فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے صدر ملک ابرار حسین نے کہا ہے کہ اساتذہ کی ویکسی نیشن کے باوجود تعلیمی ادارے مزید بند رکھنے کا کوئی جواز نہیں، ملک بھر کے کنٹونمنٹس ایریاز میں انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔

ملک ابرار حسین نے مزید کہا کہ باقی شعبہ جات کھول کر صرف تعلیمی اداروں کو بند رکھنا زیادتی ہے، وزیراعظم پاکستان، چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف آف آرمی اسٹاف نوٹس لیں۔
5
پشاور یونیورسٹی کی چاردیواری گرانا اور زمین پر قبضہ افسوسناک ہے، آئی جے ٹی
ناظم اسلامی جمعیت طلبہ جامعہ پشاور محمد اسفندیار نے کہا ہے کہ پی ڈی اے کی جانب سے جامعہ پشاور کی دیوار گرانا اور زمین پر قبضہ کرنا افسوس ناک ہے، صوبائی حکومت ایک جانب جامعات کی فنڈنگ میں کمی کررہی ہے تو دوسری جانب پی ڈی اے اور قبضہ مافیا کی جانب سے مسلسل جامعہ پشاور کی جائیداد پر قبضے کا سلسلہ جاری ہے۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ تین سال قبل صوبائی حکومت نے جامعہ پشاور کی قیمتی زمین، جو روڈ نمبر ایک پر مشتمل تھی، کو یونیورسٹی سے لے لیا اور یونیورسٹی کو اس کا کوئی معاوضہ نہیں دیا جبکہ چند ہفتے قبل قبضہ مافیا نے جامعہ پشاور کی دکانوں پر قبضہ کیا۔انہوں نے گورنر سے مطالبہ کیا کہ وہ پی ڈی اے کی جانب سے غیر قانونی طور پر جامعہ پشاور کی دیوار گرانے کا نوٹس لے اور جامعہ پشاور کی جائیداد کو مختلف پروجیکٹس میں استعمال کرنے کا معاوضہ دے۔
6

انجینئرنگ یونیورسٹی کے سکالرانجینئروحید گل نےپی ایچ ڈی کرلی
انجینئرنگ یونیورسٹی پشاور کے سکالرانجینئر وحید گل نے مقالے کا دفاع کرتے ہوئے شعبہ میکاٹرانکس انجینئرنگ سے پی ایچ ڈی مکمل کرلی۔ پروفیسر ڈاکٹرسید ریاض اکبر شاہ شعبہ میکاٹرانکس انجینئرنگ یونیورسٹی ان کے سپروائزر جبکہ پروفیسر ڈاکٹر افضل خان شریک سپروائزر تھے ۔ریسرچ ایوا لوایشن کمیٹی میں ڈاکٹر کنور محمد سلیمان سابق ڈائریکٹر پاکستان فارسٹ انسٹیٹیویٹ پشاور، ڈاکٹر اظہار الحق شعبہ میکاٹرانکس انجینئرنگ اور ڈاکٹر عامر اللہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور شامل تھے۔ انجینئر وحید گل انسٹیٹیو یٹ آف سپیس ٹیکنالوجی اسلام آباد میں بطور لکچرر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ موصوف کے21ریسرچ پیپرز قومی و بین الاقومی جریدوں میں شائع ہوچکے ہیں۔
7
17سال اور زائد عمر طلبہ کے ویکسینیشن نہ لگانے پر تعلیمی دروازے بند
 کراچی: وزارت تعلیم حکومت سندھ کے ماتحت دو شعبوں کی جانب سے 17 سال اور اس سے اوپر کے طلبہ کے لیے ویکسینیشن کے معاملے پر دو علیحدہ علیحدہ پالیسز سامنے آگئی ہیں جس سے سندھ کے ہزاروں والدین اور کالج جانے والے ان کے لاکھوں بچوں میں بے چینی پھیلی گئی۔

ایک جانب نجی تعلیمی اداروں کو رجسٹریشن دینے والے ادارے ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ انسٹیٹیوشنز سندھ نے اپنا پالیسی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب 17 سال سے کم عمر کے طلبہ کو ویکسین نہیں لگائی جائے گی اور 17 سال یا اس سے زیادہ عمر کے طلبہ کی ویکسینیشن بھی والدین کی رضا مندی سے ہوگی جبکہ سرکاری کالجوں کی اتھارٹی نے 17 سال یا اس سے زائد عمر کے طلبہ پر ویکسین نہ لگانے کی صورت میں تعلیم کے دروازے بند کردیے ہیں۔

کراچی سرکاری کالجوں کی اتھارٹی ریجنل ڈائریکٹر حافظ عبدالباری اندڑ کی جانب سے اس سلسلے میں جاری ایک علیحدہ نوٹیفیکیشن میں تضاد ہے۔

اس نوٹیفیکیشن کی شق نمبر 4 میں پہلے کہا گیا ہے کہ ویکسینیشن والدین کی رضا مندی سے ہوگی تاہ اگلی ہی شق 5 میں کہا گیا ہے کہ 17 سال یا اس سے اوپر کی عمر کسی بھی طالب علم کو بغیر ویکسینیشن کے نا تو کالجوں میں داخلہ دیا جائے گا وہ کلاسز لے سکتے ہیں اور نہ ہی پریکٹیکل یا کسی دوسرے امتحان میں شریک ہو سکتے ہیں۔

اس حوالے سے “ایکسپریس” نے ڈائریکٹر جنرل پرائیویٹ انسٹیٹیوشنز سندھ منسوب صدیقی سے رابطہ کرکے محکمہ تعلیم کی پالیسی جاننی چاہی تو ان کا واضح الفاظ میں کہنا تھا کہ “ہم نے تو اپنے اعلامیے میں یہاں تک لکھ دیا ہے کہ جو والدین اپنے 17 برس یا اس سے زائد عمر کے بچوں کو ویکسین لگانے پر رضا مند نہ ہوں ان پر بھی تعلیم کے دروازے بند نہیں ہونگے منسوب صدیقی کا کہنا تھا کہ یہ پالیسی محکمہ صحت اور وزیر تعلیم سندھ سردار شاہ کی جان سے جاری ہوئی ہے ۔
8
لیاری یونیورسٹی کی طالبات نے خصوصی افراد کے لیے منفرد ایپلی کیشن تیار کرلی کراچی: لیاری یونیورسٹی کی طالبات نے قوت سماعت و گویائی سے محروم افراد کے لیے خصوصی چیٹنگ ایپلی کیشن تیار کرلی ہے جس کی مدد سے خصوصی افراد ایک دوسرے سے اشاروں کی زبان میں چیٹنگ کرسکیں گے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق اس منفرد ایپلی کیشن کو تیار کرنے کا سہرا شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی لیاری کے آئی ٹی کیمپس کی کم عمر طالبات کو جاتا ہے۔ قوت سماعت و گویائی سے محروم افراد اس چیٹنگ ایپ کے ذریعے اپنے جیسے دیگر اور عام افراد کے ساتھ کمیونیکیشن کرسکیں گے۔

اس منفرد ایپلی کیشن کوتیار کرنے والی ٹیم تین طالبات علیزہ مشتاق، فاطمہ زاہد اور عائشہ منصوری پر مشتمل ہے۔ علیزہ مشتاق لیاری، فاطمہ زاہد سائٹ جبکہ عائشہ رنچھوڑ لین کی رہائشی ہیں۔ انہوں نے یہ ایپلی کیشن اپنے آئی ٹی پروفیسرڈاکٹر محمد صدام کھوکھر کی نگرانی میں تیار کی ہے۔

اس ایپ کے فیچرز کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے عائشہ نے بتایا کہ بہت کم آئی ٹی انجینئرز اور ڈیولپرز خصوصی افراد کے بارے میں سوچتے ہیں اس لیے ہم نے اسپیشل افراد کی اس اہم مشکل کو آسان کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ انہوں نے بتایا کہ ایپلی کیشن امریکن سائن لینگویج (اشاروں کی زبان ) پر مشتمل ہے جن میں حروف تہجی کے طور پراستعمال ہونے والی علامات تعداد بہت کم تھی اس لیے ٹیم کے اراکین نے بہت زیادہ تحقیق کے بعد زیادہ سے زیادہ سائن (اشارے)  اس ایپلی کیشن میں مہیا کیے ہیں، اس کے علاوہ روز مرہ بات چیت میں عموماً استعمال ہونے والے جملے اور الفاظ بھی اس ایپلی کیشن کا حصہ ہیں۔

چیٹ ود ڈیف نامی اس ایپلی کیشن میں انسٹا گرام جیسے آرکیٹیکچرکو استعمال کیا گیا ہے جس کے تحت بھیجے گئے پیغامات کو ان سینڈ بھی کیا جاسکتا ہے۔ ایپلی کیشن کا تجربہ قوت سماعت و گویائی سے محروم افراد سے کرایا گیا جنہوں نے اسے کارآمد ایپلی کیشن قرار دیا۔

ایپلی کیشن ڈیولپ کرنے والی ٹیم مستقبل میں اس ایپ کو خصوصی افراد کے لیے اور بھی زیادہ کارآمد بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔  اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ خصوصی افراد کو سب سے زیادہ دقت تعلیم کے حصول میں پیش آتی ہے اس ایپلی کیشن کی مدد سے وہ عام طلبہ کی طرح تدریسی سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں گے اور اپنے ہم جماعتوں اور اساتذہ کے ساتھ تبادلہ خیال کرسکیں گے جس سے ان میں اعتماد پیدا ہوگا اور معاشرے میں قوت سماعت و گویائی سے محروم افراد کو صلاحیتوں کے لحاظ سے کم تر سمجھنے کی سوچ کی بھی حوصلہ شکنی ہوگی۔
9
پاکستان کی پہلی اسٹریٹ لائبریری زبوں حالی کاشکار
کراچی کے قلب میٹروپول ہوٹل چورنگی پرقائم پاکستان کی پہلی اسٹریٹ لائبریری شہری انتظامیہ کی عدم توجہی اور غفلت کے سبب زبوں حالی کاشکار ہوچکی ہے اور کمشنر کراچی اورمتعلقہ ڈی ایم سی کی جانب سے لائبریری کوچلانے میں عدم دلچسپی کے سبب یہ منفرد کتب خانہ اپنی افادیت کھورہا ہے۔

بہت کم افراد لائبریری کا رخ کرتے ہیں، اور کتابیں ایشو کرانے والوں کی تعداد بھی انتہائی مایوس کن ہے۔ ایسی کتابیں ،رسائل ،جرائد اور ناول یاشعر وشاعری پر مبنی کتابیں جوعوامی دلچسپی کاسبب ہوں کمشنر کارنرکے نام سے موجوداس لائبریری میں موجودنہیں ہیں ، دوالماریوں پر مشتمل اس لائبریری میں نصابی کتابوں کا کوئی ایسامجموعہ بھی موجودنہیں جوکالج یاجامعات کے طلبا کواس لائبریری کی جانب لاسکے۔  لائبریری کی تعمیر ومرمت کے حوالے سے کمشنر آفس کے ایم سی یاڈی ایم سی کی جانب سے کوئی ایسافنڈیابجٹ موجود نہیں ہے جواس پر خرچ کیاجائے۔

یادرہے کہ سابق کمشنر کراچی افتخار شلوانی کی جانب سے میٹروپول ہوٹل پر سڑک کے کنارے اس اسٹریٹ لائبریری کے قیام کامنصوبہ بنایاگیاتھااوراس کاباقاعدہ آغازو افتتاح چیف سیکریٹری سندھ ممتاز علی شاہ نے قائد اعظم محمد علی جناح کے یوم پیدائش پر 25دسمبر2019کے موقع پر کیاتھا۔ اس موقع پر اس لائبریری میں ابتدائی طورپر 600کتابیں رکھی گئی تھیں۔ ’’ایکسپریس‘‘نے حال ہی میں جب تقریباًدوسال قبل قائم ہونے والی لائبریری کادورہ کیاتوصورتحال دوسال قبل کے برعکس نظرآئی۔ لائبریری میں قمتی لکڑی سے بنی دوخوبصورت الماریوں میں جوکتابیں موجودہیں ان میں سے بھی کچھ بارش کے پانی کی نذرہوچکی ہیں اوراپنی اصل حالت سے تبدیل ہوگئی ہیں۔

اردوزبان  کی کتابوں کی تعداد بہت کم ہے۔ اکتوبر2020میں اس اسٹریٹ لائبریری سے کل 30کتابوں کااجرا ہواتھاتاہم گزشتہ ماہ اگست میں 3کتابیں گھروں پر مطالعہ کے لیے جاری ہوسکیں۔ ’ ’ایکسپریس‘‘کے پوچھنے پر وہاں ڈیوٹی پر موجود سیکیورٹی گارڈ  میرشاہ نے بتایاکہ انھیں حکام کی جانب سے یہ ہدایت ہے کہ کم سے کم کتابیں جاری کی جائیں کیونکہ لوگ مطالعے کے لیے کتابیں لے جاتے ہیں لیکن واپس نہیں کرتے، مذکورہ گارڈ نے ہی ’’ایکسپریس‘‘کوبتایاکہ کمشنر آفس کی جانب سے ایک صاحب سلطان خلیل اس کی دیکھ بھال کے لیے یہاں آتے ہیں۔

’’ایکسپریس‘‘کے ایک سوال پر سلطان خلیل کاکہناتھاکہ اب تک دو سال میں تقریباً6سے 7ہزارکتابیں ایسی ہی جو مطالعہ کی غرض سے لوگ اپنے گھروں کولے گئے ہیں تاہم انھیں اسٹریٹ لائبریری میں لوٹایانہیں گیاجس کے سبب اب یہ فیصلہ کیاگیاکم سے کم افرادکوکتابیں جاری کی جائیں۔

’’ایکسپریس‘‘ نے ڈی ایم سی ساؤتھ میں تعینات ڈائریکٹر لائبریریز سالک بھٹو سے رابطہ کیا اور ان سے مذکورہ اسٹریٹ لائبریری کی صورتحال کی وجہ جاننی چاہی جس پر ان کا کہنا تھا کہ ان کی اس عہدے پر حال ہی میں پوسٹنگ ہوئی ہے جبکہ لاک ڈاؤن کے سبب مسلسل دفاتر بھی بند رہے ہیں  جس کی وجہ سے لائبریری پر توجہ نہیں دی جاسکی، تاہم جلد لائبریریوں کا دورہ کرنے کا فیصلہ ہوا ہے اورکوشش کریں گے کہ نئے بجٹ سے ان پر بھی خرچ کیا جائے ۔
10
اسلام آباد: وفاقی سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ کے لیے ڈریس کوڈ لاگو کر دیے گئے۔

وفاقی نظامت تعلیمات نے نوٹیفکیشن جاری کردیا جس کے تحت خواتین اساتذہ کے جینز اور ٹائٹس پہننے جبکہ مرد اساتذہ کے جینز اور ٹی شرٹ پہننے پر پابندی ہوگی۔

پردہ کرنے والی خواتین اساتذہ کو صاف ستھرا اسکارف اور حجاب پہننے کی اجازت ہوگی۔ خواتین اساتذہ سینڈل اور اسنیکر پہن سکتی ہیں جبکہ سلیپر پہننے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اسی طرح مرد اساتذہ کو سردیوں میں گرم چادر پہنے کی اجازت نہیں ہوگی بلکہ سردیوں میں خوبصورت رنگ اور ڈیزائن کے سوئیٹر، کوٹ اور جرسی پہن سکیں گے۔

وفاقی نظامت تعلیمات نے ایریا ایجوکیشن افسران کو ڈریس کوڈ پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مرد اساتذہ شلوار قمیض کے ساتھ ویسکوٹ پہنیں۔ کلاس میں اساتذہ ٹیچنگ گاؤن اور لیبارٹری میں لیب کوٹ پہنیں۔
Pages: [1] 2 ... 10
PakSTUDY © 2006 - 2021 | All Rights Reserved.