Library MCQS Sindh Study Punjab Study
PakStudy :Yours Study Matters

لیاری یونیورسٹی کی طالبات نے خصوصی افراد کے لیے منفرد ایپلی کیشن تیار کرلی

Offline AKBAR

  • *****
  • 4560
  • +1/-1
  • Gender: Male
    • pak study
لیاری یونیورسٹی کی طالبات نے خصوصی افراد کے لیے منفرد ایپلی کیشن تیار کرلی کراچی: لیاری یونیورسٹی کی طالبات نے قوت سماعت و گویائی سے محروم افراد کے لیے خصوصی چیٹنگ ایپلی کیشن تیار کرلی ہے جس کی مدد سے خصوصی افراد ایک دوسرے سے اشاروں کی زبان میں چیٹنگ کرسکیں گے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق اس منفرد ایپلی کیشن کو تیار کرنے کا سہرا شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی لیاری کے آئی ٹی کیمپس کی کم عمر طالبات کو جاتا ہے۔ قوت سماعت و گویائی سے محروم افراد اس چیٹنگ ایپ کے ذریعے اپنے جیسے دیگر اور عام افراد کے ساتھ کمیونیکیشن کرسکیں گے۔

اس منفرد ایپلی کیشن کوتیار کرنے والی ٹیم تین طالبات علیزہ مشتاق، فاطمہ زاہد اور عائشہ منصوری پر مشتمل ہے۔ علیزہ مشتاق لیاری، فاطمہ زاہد سائٹ جبکہ عائشہ رنچھوڑ لین کی رہائشی ہیں۔ انہوں نے یہ ایپلی کیشن اپنے آئی ٹی پروفیسرڈاکٹر محمد صدام کھوکھر کی نگرانی میں تیار کی ہے۔

اس ایپ کے فیچرز کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے عائشہ نے بتایا کہ بہت کم آئی ٹی انجینئرز اور ڈیولپرز خصوصی افراد کے بارے میں سوچتے ہیں اس لیے ہم نے اسپیشل افراد کی اس اہم مشکل کو آسان کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ انہوں نے بتایا کہ ایپلی کیشن امریکن سائن لینگویج (اشاروں کی زبان ) پر مشتمل ہے جن میں حروف تہجی کے طور پراستعمال ہونے والی علامات تعداد بہت کم تھی اس لیے ٹیم کے اراکین نے بہت زیادہ تحقیق کے بعد زیادہ سے زیادہ سائن (اشارے)  اس ایپلی کیشن میں مہیا کیے ہیں، اس کے علاوہ روز مرہ بات چیت میں عموماً استعمال ہونے والے جملے اور الفاظ بھی اس ایپلی کیشن کا حصہ ہیں۔

چیٹ ود ڈیف نامی اس ایپلی کیشن میں انسٹا گرام جیسے آرکیٹیکچرکو استعمال کیا گیا ہے جس کے تحت بھیجے گئے پیغامات کو ان سینڈ بھی کیا جاسکتا ہے۔ ایپلی کیشن کا تجربہ قوت سماعت و گویائی سے محروم افراد سے کرایا گیا جنہوں نے اسے کارآمد ایپلی کیشن قرار دیا۔

ایپلی کیشن ڈیولپ کرنے والی ٹیم مستقبل میں اس ایپ کو خصوصی افراد کے لیے اور بھی زیادہ کارآمد بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔  اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ خصوصی افراد کو سب سے زیادہ دقت تعلیم کے حصول میں پیش آتی ہے اس ایپلی کیشن کی مدد سے وہ عام طلبہ کی طرح تدریسی سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں گے اور اپنے ہم جماعتوں اور اساتذہ کے ساتھ تبادلہ خیال کرسکیں گے جس سے ان میں اعتماد پیدا ہوگا اور معاشرے میں قوت سماعت و گویائی سے محروم افراد کو صلاحیتوں کے لحاظ سے کم تر سمجھنے کی سوچ کی بھی حوصلہ شکنی ہوگی۔