Author Topic: پاکستان کے تمام بورڈز کے امتحانات منسوخ  (Read 1179 times)

Offline AKBAR

  • Editorial board
  • Hero Member
  • *****
  • Posts: 4924
  • My Points +1/-1
  • Gender: Male
    • pak study
In Pakistan 9th,10th,11th and 12th class examinations of all boards are canceled

پاکستان کے تمام بورڈز کے  نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں جماعتوں کے امتحان ختم

وفاقی حکومت نے ملک میں کورونا وائرس کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اسکولز، یونیورسٹیز سمیت تمام تعلیمی اداروں کو 15 جولائی تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

قومی رابطہ کمیٹی(این سی سی) اجلاس کے بعد وزیراعظم اور دیگر وفاقی وزرا کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ جب کورونا وائرس کی وبا پھیلی تو ہمیں طلبہ کی صحت کا مکمل خیال کرنے اور تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے صوبوں کی مشاورت سے تمام تعلیمی اداروں کو 31 مئی تک بند کرنے اور تمام امتحانات کو ملتوی کرتے ہوئے جون اور جولائی میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم نے مارچ کے اوائل میں یہ فیصلے کیے اور وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق ٹیلی تعلیم کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے ٹی وی چینل کے ذریعے تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔

شفقت محمود نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ مذکورہ اقدامات پر نظرثانی کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا اور 2 دن قبل بین الصوبائی وزرا کا اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں دو چیزوں پر فیصلے ہوئے تھے جنہیں پہلے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر(این سی او سی ) اور آج (7 مئی کو) این سی سی اجلاس میں پیش کرنے کے بعد ان کی منظوری دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اسکولز، یونیورسٹیز اور دیگر تمام تعلیمی ادارے یکم جون کو کھلنے کے بجائے اب 15 جولائی تک بند رہیں گے۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو مزید ڈیڑھ ماہ بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی بورڈز کے امتحانات منسوخ کردیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں جماعتوں کے تمام بورڈز کے طلبہ کو گزشتہ برس کے نتائج کی بنیاد پر اگلی جماعت میں پروموٹ کیا جائے گا جبکہ یونیورسٹیز میں داخلے کے لیے گیارہویں جماعت کے نتائج موجود ہوں گے۔

شفقت محمود نے کہا کہ یہ طلبہ کی صحت کے لیے بہت اہم فیصلہ ہے کیونکہ اگر امتحان ہالز میں ہوتے ہیں وہاں ہجوم کا خطرہ تھا اور وہاں آنے جانے کا بھی مسئلہ اس لیے والدین کی تسلی اور بچوں کی صحت کے لیے یہ فیصلے کیے گئے۔

یاد رہے کہ 26 فروری کو کراچی میں کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آنے کے بعد سندھ حکومت نے 2 روز کے لیے اسکول بند رکھنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم یکم مارچ کو فیصلے میں توسیع کرتے ہوئے 13 مارچ تک اسکول بند رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

سندھ کے بعد پنجاب اور وفاقی سطح پر بھی تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

بعد ازاں سندھ حکومت نے تمام تعلیمی ادارے 31 مئی تک بند رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے گرمیوں کی چھٹیاں بھی قبل از وقت شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس کے ساتھ ہی 13 مارچ کو قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ملک بھر کے تمام تعلیمی ادارے 5 اپریل تک بند رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا تھا کہ 'قومی سلامتی کمیٹی نے ملک بھر کے تعلیمی ادارے 5 اپریل تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، تعلیمی اداروں میں نجی و سرکاری اسکولز، کالجز، جامعات اور مدارس شامل ہیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'تعلیمی ادارے کھولنے سے متعلق 27 مارچ کو مشاورت کی جائے گی اور آگے کا فیصلہ کیا جائے گا۔'

بعدازاں 18مارچ کو وزیرتعلیم شفقت محمود نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ حکومت نے ملک میں یکم جون تک کوئی امتحان نہ کروانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ کیمبرج، پیئرسن اور بیکولوریا سمیت تمام غیر ملکی بورڈز بھی حکومتی ہدایات کے پابند ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل تمام تعلیمی اداروں کو 5 اپریل تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ صورتحال کو دیکھ کر اقدامات اور فیصلے کیے جائیں گے۔

شفقت محمود کہنا تھا کہ یکم جون تک پاکستان میں جتنے امتحانات شیڈول ہیں وہ نہیں ہوں گے جس میں مختلف جماعتوں، تمام بورڈز، میٹرک اور انٹر کے امتحانات کے ساتھ ساتھ کیمبرج اسکول سسٹم کے امتحانات بھی نہیں ہوں گے جبکہ دیگر غیر ملکی اداروں مثلاً پیئرسن، بیکیلوریا وغیرہ کے امتحان بھی منعقد نہیں کیے جائیں گے۔

وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ اسکولوں کو کھولنے کے معاملے کو امتحانات سے اس لیے علیحدہ کیا گیا کہ امتحانات کے لیے تیاری درکار ہوتی ہے جس کے بچوں کو معلوم ہونا ضروری ہے کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔

علاوہ ازیں گزشتہ روز وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا تھا کہ موجودہ حالات کے باعث ہمیں یکم جون سے اسکول کھولنا ممکن نظر آرہا۔