Library Sindh Study FG Study Punjab Study
PakStudy :Yours Study Matters

پاکستانی طالبہ اے سی سی اے میں سب سے زیادہ نمبر لے کر سرِفہرست

Offline AKBAR

  • *****
  • 4469
  • +1/-1
  • Gender: Male
    • pak study

پاکستانی طالبہ اے سی سی اے میں سب سے زیادہ نمبر لے کر سرِفہرست
لاہور: پاکستانی طالبہ زارا نعیم ڈار نے ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس کے دسمبر 2020ء کے امتحان میں پوری دنیا میں سب سے زیادہ نمبر لے کر پاکستان کے لیے ایک اعزاز حاصل کیا ہے۔

اس امتحان میں 179 ممالک کے 5 لاکھ 27 ہزار طلبا و طالبات شریک تھے جس میں زارا نعیم نے سرِ فہرست رہ کرپاکستان کے لیے ایک اہم اعزاز حاصل کیا ہے۔

لاہور کی رہائشی زارا نعیم، ایس کے اے این ایس اسکول آف اکاؤنٹنگ کی طالبہ ہیں اور وہ فائنینشل رپورٹنگ کے امتحان میں پوری دنیا میں اول رہی ہیں۔ زارا نعیم نے اس حوصلہ افزائی اور سراہنے پر قوم کا شکریہ ادا کیا ہے۔
اپنی کامیابی کے لیے انہوں نے بطورِ خاص اپنے والد کا شکریہ ادا کیا جن کی فراہم کردہ تعلیم، تربیت اور حوصلہ افزائی سے ہی وہ اس مقام تک پہنچی۔

زارا نے کہا ہے کہ ان کے والد عسکری افسر ہیں اور وہ ہی ان کے اصل ہیرو بھی ہیں۔
زارا نے اپنے انسٹا گرام اکاؤنٹ میں بتایا کہ انہوں نے اپنے والد کو کیریئر کی بلندیوں پر جاتے دیکھا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ ان کے لیے ایک اہم مشعلِ راہ ہیں۔
زارا کی اس کامیابی پر وزیر برائے اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے بھی اپنی مسرت کے اظہار کا ٹویٹ کیا ہے۔
پروپاکستانی نامی ویب کے مطابق زارا نعیم اس کامیابی کے بعد خود اپنی کمپنی کھولنے کی خواہاں ہیں
کیونکہ وہ پراعتماد ہیں کہ وہ اس طرح بین الاقوامی کارباری اداروں اور کلائنٹس کا اعتماد جیت سکیں گی۔

Offline AKBAR

  • *****
  • 4469
  • +1/-1
  • Gender: Male
    • pak study

زارا نعیم: اے سی سی اے کے فنانشل رپورٹنگ کے امتحان میں ٹاپ کرنے والی پاکستانی طالبہ
عمیر سلیمی: بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد :15 فروری 2021
سنہ 2020 طلبہ کے لیے کافی مشکل رہا ہے اور اس سال کئی بچوں کی تعلیم اور امتحانات متاثر ہوئے۔ لیکن دسمبر میں ہونے والے ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس (اے سی سی اے) کے فنانشل رپورٹنگ کے امتحان میں پاکستانی طالبہ زارا نعیم نے عالمی سطح پر نمایاں پوزیشن حاصل کی ہے۔

179 ملکوں کے لاکھوں طلبہ میں سے ایک صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کی زارا نعیم نے اے سی سی اے کے اس ساتویں امتحان میں ’سب سے زیادہ نمبر‘ حاصل کیے جس کی وجہ سے انھیں مقامی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر کافی سراہا جا رہا ہے۔

انھوں نے اس امتحان کی تیاری کے لیے دو سال لگائے۔ اس میں وہ عرصہ بھی شامل ہے کہ جب ملک میں عالمی وبا کے نئے متاثرین تیزی سے سامنے آ رہے تھے اور لاک ڈاؤن کے باعث تعلیمی سرگرمیاں رکاوٹ کا شکار تھیں۔

وہ اے سی سی اے کے تمام لازمی مضامین پاس کر چکی ہیں مگر کلیئر کرنے کے لیے ابھی کچھ دوسرے امتحانات باقی ہیں۔ اس کے باوجود انھیں کئی کمپنیوں کی جانب سے نوکری کی پیشکش کی جارہی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'میں بچپن سے پڑھنے والی تھی۔ میں نے سکالرشپ پر او لیول اور اے لیول کیا۔
جب امتحانات قریب ہوتے ہیں تو میں اس سے دو ماہ قبل روزانہ تین سے چار گھنٹے پڑھتی ہوں۔'

میڈیکل، انجینیئرنگ یا دیگر مضامین کے بجائے انھوں نے او لیول اور اے لیول سے ہی بزنس، اکاؤنٹنگ اور اکنامکس پڑھی جس کے تسلسل میں پھر انھوں نے اے سی سی کرنے کا فیصلہ کیا۔
'کچھ لوگوں کے لیے یہ مضامین بورنگ ہوسکتے ہیں لیکن میری دلچسپی اسی میں تھی۔۔۔ معاشرے میں کئی لوگ کہتے تھے پڑھنے کا شوق ہے تو ڈاکٹر بنو! لیکن مجھے اکاؤنٹنگ پسند تھی اور میرے والدین نے مجھے سپورٹ کیا۔'

انھوں نے بتایا کہ ان کا تعلق ایک ملٹری فیملی سے ہے اور ان کے والد ایک ریٹائرڈ بریگیڈیئر ہیں۔
'میرے والد نے میرے فیصلے کی حمایت کی اور کہا آپ کا جو دل کرتا ہے آپ کریں۔ میری والدہ کا، جو ایک ہاؤس وائف ہیں، بھی یہی کردار رہا اور انھوں نے میرے لیے دعائیں کیں۔'

’پارٹی ہو رہی ہے‘ کا موازنہ ’پڑھائی ہو رہی ہے‘ سے

سوشل میڈیا پر متعدد اکاؤنٹ زارا نعیم کا موازنہ بلاگر دنانیر مبین سے کر رہے ہیں جن کی حال میں ایک میم وائرل ہوئی ہے۔ اس میں وہ ایک مزاحیہ انداز میں کہتی ہیں کہ 'یہ ہماری کار ہے، یہ ہم ہیں اور یہ ہماری پارٹی ہو رہی ہے۔'

اس موازنے کی وجہ یہ ہے کہ جن دنوں زارا نعیم کا رزلٹ آیا انہی دنوں دنانیر مبین کی ویڈیو وائرل ہوئی اور بعض لوگ یہ شکایت کرتے نظر آ رہے ہیں کہ ویڈیو تو وائرل ہوئی لیکن زارا نعیم کی کامیابی کا ذکر کہیں نظر نہیں آیا۔

بی بی سی نے زارا سے یہ بھی پوچھنا چاہا کہ آیا ان کا دنانیر مبین سے موازنہ درست ہے۔
اس پر ان کا کہنا تھا کہ 'میرا نہیں خیال یہ درست موازنہ ہے۔ ہمیں کسی صورت ایسے موازنے میں نہیں پڑنا چاہیے۔۔۔ آپ صرف ایک جیسی چیزوں کا موازنہ کر سکتے ہیں۔

'جب دو چیزیں بالکل ہی مختلف ہوں تو انھیں اپنی اپنی جگہ رہنے دینا چاہیے۔'
وہ مزید کہتی ہیں کہ 'تفریحی مواد بھی ضروری ہے، اس میں کچھ غلط نہیں کیونکہ سب کو ہنسنا کھیلنا پسند ہوتا ہے۔ یہ آج کل ایک ضرورت ہے۔

'لیکن جہاں تک پڑھائی سے متعلق چیزوں کو نمایاں کرنے کی ضرورت ہے تو پاکستان میں ہم واقعی اس میں پیچھے ہیں۔'

زارا کا کہنا ہے کہ 'پاکستان میں تعلیمی قابلیت پر اتنا سراہا نہیں جاتا، بین الاقوامی سطح پر ایسے کامیابی پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔۔۔ یہاں بات صرف میری نہیں بلکہ کسی بھی تعلیمی کامیابی کی ہو رہی ہے۔'

ان کے مطابق ایسا کرنے سے طلبہ کی حوصلہ افزائی ہوسکتی ہے تاکہ وہ مزید بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔

دوسری طرف دنانیر مبین نے بھی سوشل میڈیا پر زارا کے ساتھ اپنے موازنے پر ردعمل دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ خواتین کو اپنی انفرادی کامیابی کے لیے سراہا جاسکتا ہے، نہ کہ انھیں ایک دوسرے کے مدمقابل سمجھا جائے۔‘

'صرف ڈاکٹر، انجینیئر یا وکیل نہیں رہ گئے‘
پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے بھی زارا کی کامیابی پر انھیں مبارکباد پیش کی ہے۔ بی بی سی نے زارا سے پوچھا کہ حکومت کو تعلیمی شعبوں کی آگاہی کے لیے کیا کرنا چاہیے؟

ان کا کہنا تھا کہ 'صرف ڈاکٹر، انجینیئر یا وکیل نہیں رہ گئے۔ اے سی سی اے اور ایسے کئی دیگر شعبے ہیں۔ بہت ساری ڈگریاں یا شعبے پاکستان میں اتنے عام نہیں۔ تو ان شعبوں کو آگے لانا چاہیے کیونکہ ہر انسان میں الگ صلاحیت ہوتی ہے۔‘

زارا نعیم پڑھنے کے علاوہ انسٹاگرام پر میک اپ بلاگِنگ بھی کرتی ہیں۔

'میرا فوکس اکاؤنٹنگ ہی ہے۔ میک اپ میں نے اس لیے شروع کیا کیونکہ مجھے شروع سے آرٹس کا بھی شوق تھا اور میں اسے چھوڑنا نہیں چاہتی تھی۔

'میں اپنے فارغ اوقات میں اس پر کام کرتی ہوں۔'

 

PakSTUDY © 2006 - 2021 | All Rights Reserved.