LibraryMCQSSindh StudyFG StudyPunjab Study
PakStudy :Yours Study Matters

ٹوبہ ٹیک سنگھ کے زیر اہتمام ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید کی برسی

Offline گل

  • **
  • 1045
  • +1/-2
  • Gender: Male


ٹوبہ ٹیک سنگھ کے زیر اہتمام ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید کی برسی

سلطان محمود سندھو، بیورو چیف ٹوبہ ٹیک سنگھ

ٹوبہ ٹیک سنگھ ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید جیسی شخصیات کسی بھی قوم کو زندہ رکھنے کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں اور ان کے افکار اور نظریات پر عمل پیرا ہوکر کوئی بھی قوم معاشرہ میں وہ بلند مقام حاصل کرسکتی ہے کہ جس کی قوم کے اکابرین خواہش رکھتے ہوں۔ ان خیالات کا اظہار علامہ سید ابوذر مہدوی نے مرکزی امام بارگاہ جھنگ روڈ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں العصر اسلامک موومنٹ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے زیر اہتمام ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید کی برسی کے موقع پر منعقدہ شہداء کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔ اس موقع پر العصر اسلامک موومنٹ، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان، نوجوانان خدام اہل بیت ، ماتمی دستہ قصر ابو طالب بخشی پارک کے کارکنان سمیت علاقہ رجانہ، عاشقان مہدی یونٹ 264گ ب، کمالیہ، گوجرہ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ سے مومنین کی کثیر تعداد بھی موجود تھی۔ علامہ ابوذر مہدوی نے مزید کہا کہ ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید نے پاکستان بھر کے شیعہ طلباء کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونے کی سوچ فراہم کی اور 1972ء میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کی بنیاد رکھی اور بعد کے حالات نے ثابت کردیا کہ اس وقت آئی، ایس، او کا قیام پاکستان کے آمدہ حالات کے تناظر میں ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید اور ان کے رفقاء کار کا ایک بہترین اقدام تھا۔ شہداء کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید کے فرزند اور امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی سیکرٹری تعلیمات سید دانش علی نقوی نے کہا کہ شہید کی وراثت اس کے وہ اہداف ہوتے ہیں جن کے حصول کے لئے وہ اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتا ہے اور شہید کے وارث اس کی قوم کے وہ افراد ہوتے ہیں جو اس کے اہداف کی تکمیل کے لئے کوشاں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید عالم اسلام کو دنیا بھر میں ایک بلند اور باوقار مقام پر دیکھنا چاہتے تھے اور عالم اسلام کا اتحاد اور اتفاق ہمیشہ ان کے پیش نظر رہتا تھا اور اپنے ان عظیم مقاصد کے حصول کے لئے ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید نے مختلف ممالک میں جیل کی صعوبتیں بھی برداشت کیں لیکن اپنے نظریات اور اہداف کی راہ میں سعی سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنا گوارہ نہ کیا یہاں تک کہ شہادت کے بلند مرتبہ پر فائز ہوئے۔ شہداء کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملک ابرار حسین شہید کے فرزند ملک اسد ابرار نے کہا کہ دنیا میں وہی قومیں زندہ رہتی ہیں جو اپنے شہدا کو اپنی محافل اور ان کے نظریات کو اپنے دلوں میں ہمیشہ آباد رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس دنیا میں شہادت کے مرتبہ پر فائز ہوکر چلے گئے انہوں نے تو کار حسینی انجام دیا مگر آج ہم لوگ جو آج اس کربلائے عصر میں زندہ ہیں ہمیں چاہئے کہ ہم پورے خلوص کے ساتھ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی سنت پر عمل کرتے ہوئے شہداء کے افکار کو زندہ رکھیں اور دنیا بھر میں عالم اسلام کے خلاف ہونے والی سازشوں کو بے نقاب کرنے کے لئے شہداء ملت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے میدان کارزار میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ شہداء کانفرنس سے العصر اسلامک موومنٹ کے رہنما زاہد حسین مہدوی، فدا حسین رانا ایڈووکیٹ، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان فیصل آباد کے ڈویژنل صدر سید احسن رضا، ڈسٹرکٹ آرگنائزر سید عون رضا ، آئی۔ ایس۔ او پاکستان ابرار شہید یونٹ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نومنتخب یونٹ صدر برادر عرفان حیدر، حافظ امانت علی اور برادر احسان حیدر نے بھی خطاب کیا۔




شکریہ القمر

 

PakSTUDY © 2006 - 2021 | All Rights Reserved.