Library Sindh Study FG Study Punjab Study
PakStudy :Yours Study Matters

Career in Microbiology | مائیکرو بائیولوجی میں کیریئر

Offline AKBAR

  • *****
  • 4393
  • +1/-1
  • Gender: Male
    • pak study

Career in Microbiology | مائیکرو بائیولوجی میں کیریئر
سائنس کے کئی زمرے ہیں، جن میں سے ایک بائیولوجی (حیاتیات) ہے۔ یہ ایک فطری علم ہے جس میں حیات (زندگی) اور زندہ نامیات(Organics)، بشمول ان کے طبیعی خدوخال، کیمیائی عوامل، سالماتی تعملات (Molecular interactions)، فنکشنل طریقہ کار، نشوونما اور ارتقاء کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس کی تین قسمیں ہیں؛ حیوانیات (Zoology)، نباتات (Botany) اور خُرد حیاتیات (Microbiology)۔ زولوجی میں جانوروں، بوٹنی میں پودوں اور مائیکرو بائیولوجی میں چھوٹے جانداروں جیسے بیکٹیریا، وائرس،وغیرہ) کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

مائیکروبائیولوجی انتہائی چھوٹے یعنی انسانی آنکھ سے نظر نہ آنے والےاجسام اور انفیکشن لگانے والے ایجنٹس کے مطالعے کا نام ہے۔ ان اجسام میں بیکٹیریا، فنجائی اور الجائی شامل ہیں۔ کسی بھی قسم کے وائرس کو اگر چہ ابھی تک زندہ اجسام میں شامل نہیں کیا گیا ہے، تاہم ان کا مطالعہ بھی مائیکرو بائیولوجی کی تعلیم میں کیا جاتاہے۔ مائیکرو بائیولوجی ایک وسیع علم ہے، جس میں ایسے اجسام کا مطالعہ کیا جاتا ہے جو خُردبین (Microscope) سے نظر آتے ہیں۔

اس میں بہت ساری اہم فیلڈز جیسے کہ ویرولوجی (Virology)، مائیکلوجی (Mycology)، پیراسائیٹولوجی (Parasitology) اور بیکٹیریالوجی (Bacteriology) وغیرہ شامل ہیں۔ اگرچہ کچھ خُرد بینی اجسام چھوت کی بیماریاں لگانے کا باعث ہوتےہیں، تاہم بہت سے زندگی کے لیے لازمی اور فائدہ مند ہوتے ہیں اور یہ اہم اشیا جیسے پنیر، اینٹی بائیو ٹکس ، ویکسین، وٹامنز ، انزائمز اوردیگر مصنوعات اور پروسیسز کی تیار ی میں کام آتے ہیں۔

کام کی نوعیت

مائیکرو بائیولوجسٹس کا کام صرف خرد بین استعمال کرنا نہیں ہے بلکہ ان کی ذمہ داریوںکی ایک طویل فہرست ہے جیسے کہ :

٭ مٹی اورپانی کے ذرائع کو سمجھنا ، منظم کرنا اور انہیں بہتر کرنے کے لیے کام کرنا۔

٭ مائیکرواسکوپک اجسام کی نشوونما، اسٹرکچر، ڈیولپمنٹ، دیگر خصوصات اور ان کے ماحول سے تعلق کی تحقیق کرنا۔

٭ نباتات، جانوروں اور مردہ نامیاتی مادوں کے زندہ نسیجوں (Tissues)پر مائیکرواسکوپک اجسام کے افعال کا مشاہدہ کرنا۔

٭ انسانی، حیوانی اور نباتاتی نسیجوں، خلیوں، مرض پھیلانے والے جرثوموں (Pathogens)اور ان کے اندر زہریلے مواد (Toxins) کی ساخت اور افعال کا مطالعہ کرنا ۔

٭ مائیکرو اسکوپ استعمال کرتے ہوئے عضویاتی (Physiological)، علم اشکال الاعضا (Morphological) او ر مطابقتی (Compatibility) خصوصیات کا معائنہ کرنا تاکہ انسانوں، پانی اور غذائی نمونوں میں مائیکرواسکوپک اجسام کی نشاندہی اور درجہ بند ی کی جاسکے۔

٭ ہو ا میں نمی، آکسیجن او ر کاربن ڈائی آکسائڈ کے باہمی تبادلے، درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے اور ان میں مائیکرواسکوپک اجسام کی مطابقت کو برقرار رکھنے اور الگ کرنے کے لیے کام کرنا۔

٭ انسانوں اور حیوانوںمیں بیماریوں کا باعث بننے والے مائیکرواسکوپک اجسام کے کردار کا معائنہ کرنا اور ان بیماریوں کی روک تھام کے طریقے دریافت کرنا (میڈیکل مائیکروبائیولوجسٹس ) ۔

٭ مٹی کی زرخیزی ، زرعی مصنوعات کی خرابی اور پودوںکی بیماریوں میں مائیکرواسکوپک اجسام کےکردار کا مطالعہ کرنا ( ایگریکلچرل مائیکرو بائیولوجسٹس) ۔

٭ سمندروں میں موجود بےشمار مائیکرواسکوپک اجسام کا مطالعہ کرنا ( مرین مائیکرو بیالوجی) ۔

٭ مائیکرواسکوپک اجسام کی عمومی خصوصیات بشمول ایکولوجی، جینیٹکس ،میٹا بولزم ، فزیولوجی اور اسٹرکچر کا مطالعہ کرنا ۔

٭ بے شمار فیلڈز جیسے کہ طب، زراعت اور فارما انڈسٹریز وغیرہ میںاپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنا۔

٭ خُرد بینی اجسام کے استعمال سے تیار ہونے والی پروڈکٹس جیسے امائنو ایسڈ، اینٹی بائیوٹک، سٹرک ایسڈ اور وٹامن سی وغیرہ بنانے والی مصنوعات کی کمپنی میں کام کرنا۔

٭ اس کے علاوہ مائیکرو بائیولوجسٹ تحقیقی اداروں، ہسپتالوں، فوڈ اور بیورج انڈسٹریز میں بھی کام کرتے ہیں۔

ڈگری تعلیم اور اہلیت

مائیکرو بائیولوجی میں کیریئر بنانے کے لیے ملکی سطح پر ذیل میں درج گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ پروگرام دستیاب ہیں۔

بی ایس سی : 2 سال ( اہلیت ایف ایس سی پری میڈیکل) ٰٗ

ایم ایس سی : 2 سال (بی ایس سی یا مساوی اے لیولز )

بی ایس : 4 سال ( اینٹری ٹیسٹ )

ایم ایس /ایم فل (اگر بی ایس یا ایم ایس سی کیا ہو ) : 2 سال

پی ایچ ڈی : 3 سے 5 سال

رحجان اور دلچسپی

طلبا کو سائنسی رحجان، بائیولوجی ، کیمسٹری ،انگریزی اور انسانی جسم کی بہترین معلومات، تجزیاتی سوچ ، جزئیات پر توجہ مرکوز رکھنے ، تنقیدی نظر، عمدہ مشاہدہ رکھنے، مستقل مزاجی ، تعاون کرنے اور ٹیم اسپرٹ جیسی خصوصیات کا حامل ہونا چاہیے۔

ملازمت کے مواقع

مائیکروبائیولوجی میں مہارت رکھنے والے طلبا کے لیے بائیو ٹیکنالوجی فرمز، میڈیکل لیبارٹریز، بیورج، ادویات سازی ، کیمیکل ، ریسرچ کمپنیوں، کنسلٹنگ فرمز، حیوانی بیماریوں کی تشخیص کی لیبارٹیریز، ڈیری، واٹر/ویسٹ واٹر اتھارٹیز، فوڈ کمپنیوں اور تدریس کے حوالے سے یونیورسٹیز اور کالجز کے دروازے کھلے ہیں۔

دنیا بھر میں مائیکروبائیولوجسٹ کی بہت زیادہ مانگ ہے اور یہ کیرئیر کو چار چاندلگانے میں موثر اور فائدہ مند ہے۔ شعبہ ِمائیکروبائیولوجی میں ریسرچ تجزیہ کارکی حیثیت سے کام کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس میں آگے بڑھنے کے بہتر مواقع ہیں۔
https://jang.com.pk/news/920446

 

PakSTUDY © 2006 - 2021 | All Rights Reserved.