Library MCQS Sindh Study Punjab Study
PakStudy :Yours Study Matters

صوبہ سندھ بورڈ امتحانات کے حتمی فیصلے اسٹیرنگ کمیٹی کریں گی سعید غنی

Offline AKBAR

  • *****
  • 4560
  • +1/-1
  • Gender: Male
    • pak study
In Sindh Steering Committee to take final decisions regarding Board examinations

صوبہ سندھ بورڈ امتحانات کے حتمی فیصلے اسٹیرنگ کمیٹی کریں گی سعید غنی

وزیر تعلیم سندھ اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما سعید غنی نے کہا ہے کہ صوبہ سندھ میں نویں اور دسویں جماعت کے امتحانات سمیت دیگر فیصلے محکمہ تعلیم کی اسٹیرنگ کمیٹی کی مشاورت سے کئے جائیں گے.
انہوں نے کہا کہ اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس چند روز میں بلایا گیا ہے جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز، ماہرین تعلیم، بورڈز اور جامعات کے سربراہان، نجی اسکولز کی ایسوسی ایشنز کے عہدیداران اور تمام اعلیٰ تعلیمی سرکاری افسران ممبرز ہیں۔سعید غنی نے واضح کیا کہ ایک روز قبل ہی یکم جون سے تعلیمی اداروں کے نہ کھلنے کے حوالے سے سندھ کا موقف دے دیا تھا.
انہوں نے بتایا کہ آج نیشنل کوآپریشن کمیٹی کے اجلاس کے بعد جو فیصلے ہوئے ہیں ان میں صوبوں کو اختیار دیا گیا ہے۔
گزشتہ روز وزیر تعلیم سندھ نے عندیہ دیا تھا کہ موجودہ حالات کے باعث ہمیں یکم جون سے اسکول کھولنا ممکن نظر آرہا۔
سعید غنی نے کہا تھا کہ ’میرا اندازہ ہے کہ جو حالات ہمیں نظر آرہے ہیں شاید یکم جون سے اسکول کھولنا ممکن نہ ہو‘۔
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ اسی طرح محکمہ تعلیم کے حوالے سے کہا تھا کہ تمام نجی اسکولز اپنے ملازمین کو بشمول اساتذہ پوری تنخواہ دیں گے اس میں کوئی کٹوتی نہیں کی جائے گی اور اس کے ساتھ ساتھ انہیں ملازمت سے بھی نہیں نکالیں گے۔
اس سے قبل یعنی 11 مارچ کو وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا تھا کہ سندھ بھر میں 16 مارچ سے اسکول کھل جائیں گے۔
وزیر اعلی ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے بتایا تھا کہ اگر کورونا وائرس کے باعث صورتحال خراب ہوئی ہے تو فیصلہ تبدیل ہوسکتا ہے۔
خیال رہے کہ 26 فروری کو کراچی میں کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آنے کے بعد سندھ حکومت نے 2 روز کے لیے اسکول بند رکھنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم یکم مارچ کو فیصلے میں توسیع کرتے ہوئے 13 مارچ تک اسکول بند رکھنے کا اعلان کیا تھا۔
گزشتہ برس 19 دسمبر کو چین میں کورونا وائرس کا پہلا مریض سامنے آیا تھا اور یہ وائرس اب تک دنیا کے 188 ممالک اور خطوں میں پھیل چکا ہے جس سے متاثرین کی مجموعی تعداد 23 لاکھ سے تجاویز کرچکی ہے۔
اگر پاکستان کی بات کی جائے تو اب تک ملک میں مجموعی طور پر 24 ہزار 892 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی جبکہ 591 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔
26 فروری کو ملک میں پہلا کورونا وائرس کا کیس رپورٹ ہوا تو ساتھ ہی تعلیمی اداروں کی بندش سمیت مختلف اقدامات اٹھائے گئے جو بعد ازاں لاک ڈاؤن کی صورت میں تبدیل کردیے۔
تاہم اس کے باوجود ملک میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ کم نہیں ہوا اور مارچ اور اپریل کے مقابلے میں رواں ماہ کے آغاز سے ہی ایک نئی لہر دیکھنے میں آرہی ہے۔