Library Sindh Study FG Study Punjab Study
PakStudy :Yours Study Matters

این ای ڈی یونیورسٹی کی طالبہ جامعہ کراچی کی بس سے کچل کر ہلاک طلبہ کا احتجاج گو

Offline sb

  • **
  • 27534
  • +5/-0
  • Gender: Female

این ای ڈی یونیورسٹی کی طالبہ  جامعہ کراچی کی بس سے کچل کر ہلاک طلبہ کا احتجاج گورنر نے رپورٹ طلب کرلی
   
کراچی( اسٹاف رپورٹر)این ای ڈی یونیورسٹی کی 20 سالہ طالبہ جامعہ کراچی کی بس ( پوائنٹ ) کے نیچے آکر جاں بحق ہوگئی، حادثے پر طلباء نے شدید احتجاج کیا جبکہ گورنر نے حادثے کی رپورٹ طلب کرلی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق ملیر غازی ٹاؤن کی رہائشی این ای ڈی کی طالبہ 20 سالہ فائزہ ندیم زیدی یونیورسٹی آنے کیلئے نیپا چورنگی پہنچی اور وہاں سے جامعہ کراچی کی بس ( پوائنٹ ) میں سوار ہوگئی اور سلور جوبلی اسٹاپ کے قریب اترتے ہوئے گر پڑی اور بس کے پچھلے ٹائروں کے نیچے آکر شدید زخمی ہوگئی۔ زخمی طالبہ کو دیکھ کر وہاں موجود طالبات نے چیخ و پکار شروع کردی اور کئی طالبات دھاڑیں مار کر رونے لگیں، زخمی طالبہ کو فوری طور پر قریبی اسپتال لایا گیا بعدازاں اسے عباسی شہید اسپتال منتقل کردیا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ گئی، اس کی ہلاکت کی اطلاع جب این ای ڈی یونیورسٹی پہنچی تو طالبات دھاڑیں مار کر رونے لگیں اور تمام طلباء و طالبات سراپا احتجاج بن گئے اور یونیورسٹی روڈ پر آکر شدید احتجاج کیا ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ذمہ دار بس کے ڈرائیور کو گرفتار کیا جائے، اسی دوران رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی۔ بعدازاں طلبہ نے اپنا احتجاج پرامن طور پر ختم کر دیا ، متوفی طالبہ بی ای سیکنڈ ایئر کی طالبہ تھی اس کی لاش گھر پہنچی تو کہرام مچ گیا۔ لڑکی کی والدہ پر بے ہوشی کے دورے پڑنے لگے جبکہ گھر کے باہر لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوگئی ۔ دریں اثناء گورنر سندھ نے اس حادثہ کی حکام سے رپورٹ طلب کرلی ہے ۔جبکہ مبینہ ٹاؤن پولیس نے حادثے کے ذمہ دار ڈرائیور اختر حسین کو گرفتار کرکے بس نمبرJA-6722 قبضے میں لے لی ہے ۔ دریں اثناء فائزہ زیدی کو ہفتہ کے روز بعد نماز مغرب آہوں اور سسکیوں کے ساتھ ملیر قبرستان نزد بارگاہ بابل ہوائی جعفر طیار میں سپرد خاک کر دیا گیا، جہاں اس کے والد اور بھائی اپنی اکلوتی بیٹی اور بہن کی ناگہانی موت پر شدت غم سے نڈھال تھے۔
      شکریہ جنگ
If you born poor, its not your fault....But if you die poor, its your fault...."Bill Gates"