Library Sindh Study FG Study Punjab Study
PakStudy :Yours Study Matters

Willie pitch-fork pitch-fork journey of Delhi

Offline sb

  • **
  • 29100
  • +5/-0
  • Gender: Female
Willie pitch-fork pitch-fork journey of Delhi
« on: May 14, 2009, 08:51:26 PM »
Willie pitch-fork pitch-fork journey of Delhi
Mughal emperor Aurangzeb Alamgir's commitment and plan to conquer the Deccan and reached srmyn. Alamgir or phrase that was not only offensive, Delhi, Agra, Deccan brought millions of Doāb. This time he came herefamous poet Willie pitch-fork to turn around Delhi in 1700 AD.
English and Urdu
The British did other European nations), Dutch, French and Portuguese (from India had the heart and fall of the Mughals, he benefited from taking advantage of domestic turmoil on India would be occupying. early nineteenth century British political control become quite strong and could require them to keep in touch with the people they learn local languages. uhra spoke their native languages, most of which till then had no name, the British, a headquarters in Calcutta, Fort William, a fortress in a college so established that British local languages ​​taught to go. Fort William College to hear the 1800 AD. The college, local people's religious languages ​​Arabic and Sanskrit and the language of Persian and Bangla , mrhty etc. were taught, but most focus on the language of that language, Hindu, which the British, Indian, named.. It was acknowledged that a whole new language India's national language. but since the language was not contained in any written investors to discuss the daily learning that helps a writer for the college who were employed, Indians, wrote in the daily . The most famous writers in my shop Dehlvi, whose garden, spring, investors have become immortal Urdu literature in other writers Haider Baksh Khan, Mirza Ali, fun, Mir Bahadur Ali Hussain Mirza Kazim Ali, a young, happy Lal Chand of Lahore and LLO are included. First, most people in the stories translated in Urdu and Persian rdastanun the Persian script used, but only by LLO L. Dev Nagra), the Sanskrit (Hindu scripture so that the translation facility to learn the language.
1857 E. Indian War of Independence, later, became a British colony and new hakmun scratched a mark on the Muslim civilization of the best throwing. Arduyy maly entire town razed to the ground apart from the royal castles in the white ctyl change in the military cantonment. Jamia Masjid in Delhi for several years been occupying British army. .. arduyy maly and thus, just as a beautiful memory left in their hearts.
Maly arduyy one thing to note was that there was language in the House. Srfay and scholars and other cities devastated by maly arduyy Grace died in the language and culture outside of the lesson and to Perhaps conscious of this beloved city as reminiscent of the authentic language of the same name. arduyy maly, then just put the Urdu, left. The name of the person's emotional feeling manuyt Even the Delhi Urdu .. it,, it said.
Persian poetry first began to msnuy and qsydy, but in Persian with Arabic style, where every article of every kind and style of poetry was only qsydh. But in Persian have been specific about the gender that is qsydhmsraun of the other. qsydh number at least fifteen of the songs but not the maximum limit. qsydy of Persian poetry in more than a hundred long. This feature, however, show how majestic words and detailed information on The main article is a poem. saray qsydh techniques in the two types, which made some nice additions. ztabyh and start tsbyhh qsydy .. ebb,, is. the swing of things, the beauty and Love and enjoy the views and issues of Bihar and Gulshan paint etc.. qsydy in which every piece is different from the original article, tsbyb was called.
Msnuy early Persian poetry is original gender. Is a poem in which each poem is in totally different ways and this is the easiest class, but the listener is expected that this poem the poet expresses in his articlethousand or more can be said in this poem.
is poems.
Spin up the meaning of youth, women talking, are. Light-weight and short way of expressing the sentiments expressed were Ghazal name, the name is a collection of songs which are the same as qafyh the qsydy But each poem or article is complete and separated, and the poet himself, real, or, virtual, love affairs, the page description language and terminology to be nearly the same distance away from the old page that used to be Glossary Glossary and distinctive style statement, and his skin has remained Dhal in specific patterns. slast words and phrases and meat tenderness of the pie for her.
Ghazal and poetry became the most popular and common gender, but gender is the only way in which the articles of this form, a shift in tone and style was not.
Ghazal msray qafyh informed before we are called the Lions some ghazals are reported in more than one arbitrator, who called to inform the review and notify the poet lion got his pen name, called Spin mqta not specify the number of the songs, but usually At five songs, and more than eleven songs are not like the page.
was not necessary. rbaay of what later became the short poem of four msraun the second and fourth msra qafyh and we shared one, the old poet, ghazal, msnuy qsydy or a lion in the matter can not If it keeps increasing until the next poem or poetry of their songs was called Field.

ولی دکنی کا سفر دہلی
مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر دکن کو فتح کرنے کا عزم اور منصوبہ لے کر اس سرمین پر پہنچا۔ عالمگیر یا کی جملہ محض کارروائی ہی نہ تھی اس نے دہلی، آگرہ، دوآب کے لاکھوں افراد کو دکن پہنچا دیا۔ اس طرح یہاں وہ زمانہ آیا جب صدیوں بعد اہل دکن کو دہلی والوں کے تمدن اور زبان کو دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا او رانہوں نے محسوس کیا اہل دکن کے مقابلے میں دہلی والوں کی زبان کہیں زیادہ ترقی یافتہ اور گونا گو خوبیوں کی مالک ہے یوں مطالعے اور تحقیق کی غرض سے مشہور دکنی شاعر ولی نے تقریباً1700ئ میں دہلی کا رخ کیا۔
اردو زبان کے ارتقائ میں دلی کا یہ سفر اہم سنگ میل ہے جس کی بدولت دلی کو اپنی زین سنوارنے کا موقع ملا تو ساتھ ہی دہلی کے شعرائ کو اپنی زبان میں شعر کہنے کا حوصلہ ہوا، اور دیکھتے ہی دیکھتے دہلی میں شعرائ نے فارسی چھوڑ کر ٫٫ زبان اردوئے معلی٬٬ میں شعر گوئی اختیار کر لی۔ گویا یہ لوگ صرف ایک اشارے کے منتظر تھے جسے پاتے ہی انہوں نے اپنی زبان میں شعر کہے اور اردو کو برصغیر کی مقبول ترین زبان بنانے میں سب سے اہم کردار ادا کیا۔
انگریز اور اردو
نئی زبان کے ساتھ مقامی لوگوں کے علاوہ ایک حکمران قوم کو بھی اس سے دلچسپی ہو گئی تھی کیونکہ انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ یہ زبان ہے جو ٫٫ ہندوستان٬٬ میں تقریباً ہر جگہ سمجھی او ربولی جاتی ہے دوسری طرف تجارت کی غرض سے آئے انگریزوں نے دوسری یورپی قوموں ﴿ڈچ، فرانسیسیوں اور پرتگالیوں﴾ کو ہندوستان سے بے دل دیا تھا اب وہ مغلوں کے زوال اور ملکی انتشار سے فائدہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہندوستان پر قابض ہو جانا چاہتے تھے۔ انیسویں صدی کے آغاز انگریزوں کی سیاسی گرفت خاصی مضبوط ہو چلی تھی اور انہیں ضرورت پیش آ رہی تھی کہ عوام سے رابطہ قائم رکھنے کے لئے وہ مقامی زبانیں بھی سیکھیں۔ ان مقامی زبانوں میں سب سے اہم وہرا بولی تھی جس کا اس وقت تک کوئی نام نہ تھا، چنانچہ انگریزوں نے اپنے صدر مقام کلکتہ میں فورٹ ولیم نامی قلعے میں ایک کالج اس لئے قائم کیا کہ انگریزوں کو مقامی زبانیں سکھائی جائیں۔ فورٹ ولیم کالج کا سن قیام 1800ئ ہے۔ اس کالج میں مقامی لوگوں کی مذہبی زبانیں عربی اور سنسکرت اور سرکاری زبان فارسی کے علاوہ بنگلہ، مرہٹی وغیرہ بھی پڑھائی جاتی تھیں، لیکن سب سے زیادہ توجہ جس زبان پر دی گئی وہ یہی ٫٫ زبان ہندوی٬٬ تھی جسے ان انگریزوں نے ٫٫ ہندوستانی٬٬ نام دیا۔ یہ اس بات کا اعتراف تھا کہ نئی زبان ہی پورے ہندوستان کی قومی زبان ہے۔ لیکن چونکہ اس زبان میں کوئی ایسا تحریری سرمایہ موجود نہ تھا جو روز مرہ گفتگو سیکھنے میں مدد دیتا اس لئے اس کالج کے لئے ایسے ادیب ملازم رکھے گئے جنہوں نے ٫٫ ہندوستانی٬٬ میں روز مرہ کی کتابیں لکھیں۔ ان ادیبوں میں سب سے مشہور میرا دکن دہلوی ہوئے، جن کی ٫٫ باغ بہار٬٬ اردو ادب کا لازوال سرمایہ بن گئی ہے دوسرے ادیبوں میں حیدر بخش حیدر، مرزا علی لطف، میر بہادر علی حسینی، مرزا کاظم علی جوان، نہال چند لاہوری اور للو لال کے نام شامل ہیں۔ ابتدائ میں لوگوں نے زیادہ تر کہانیوں او رداستانوں کو فارسی سے اردو میں ترجمہ کیا لیکن رسم الخط فارسی ہی استعمال کیا صرف للو لال نے دیو ناگری ﴿یعنی سنسکرت﴾ رسم الخط میں ترجمے کئے تاکہ ہندووٕں کو بھی زبان سیکھنے کی سہولت میسر آئے۔
1857ئ کی جنگ آزادی کے بعد٫٫ ہندوستان٬٬ برطانوی نو آبادی بن گیا اور نئے حاکموں نے مسلم تہذیب کا ایک ایک نقش کھرچ پھینکنے کی پوری کوشش کی۔ اردوئے معلی کی پوری بستی مسمار کر کے چٹیل میدان بنانے کے علاوہ شاہی قلعے کو گورا فوج کی چھاوٕنی میں تبدیل کر دیا گیا۔ جامع مسجد دہلی پر کئی سال برطانوی فوج قابض رہی۔ اور یوں ٫٫ اردوئے معلی٬٬ صرف ایک سہانی یاد بن کر لوگوں کے دلوں میں باقی رہ گیا۔
اردوئے معلی کی یاد تازہ رکھنے کے لئے ایک چیز ایسی باقی تھی جو ا س علاقے کی زبان تھی۔ شرفائ اور اہل علم و فضل اردوئے معلی سے اجڑ کر دوسرے شہروں میں جا بسے جن سے باہر کے لوگوں نے زبان و تہذیب کے سبق لئے اور شاید غیر شعوری طور پر اس محبوب بستی کی یاد تازہ رکھنے ہی کے لئے وہاں کی مستند زبان کا نام ٫٫ اردوئے معلی٬٬ رکھ دیا جو بعد ازاں صرف٫٫ اردو٬٬ رہ گیا۔ اس نام کی جذباتی معنویت محسوس کر کے خود اہل دہلی بھی اسے ٫٫ اردو٬٬ ہی کہنے لگے۔
فارسی میں ابتدائی شاعری مثنوی اور قصیدے ہی سے شروع ہوئی، لیکن فارسی میں یہ صنف عربی سے آئی جہاں ہر طرح اور ہر مضمون کی شاعری کا اسلوب صرف قصیدہ تھا۔ البتہ فارسی میں اس کے موضوعات مخصوص کر دیئے گئے یعنی قصیدہ ایسی صنف ہے جس میں کسی شخصیت کی توصیف و تحسین کی جائے یا مذمت و ہجو مذکور ہو، یا پھر کائنات پر کوئی حکیمانہ تبصرہ کیا جائے اس کا پہلا شعر، جسے مطلع کہا جاتا ہے، کے دونوں مصرع ہم قافیہ، اور پھر یہی قافیہ بعد کے تمام شعروں کے دوسرے مصرعوں کا ہو۔ قصیدہ کے اشعار کی کم سے کم تعداد پندرہ لیکن زیادہ سے زیادہ کی کوئی حد نہیں۔ سو سے بھی زائد اشعار کے قصیدے فارسی میں ملتے ہیں۔ اس کی خصوصیت، شکوہ الفاظ اور وسیع معلومات پر دسترس کی نمائش البتہ نظم کا بنیادی مضمون ایک ہی ہوتا ہے۔ شعرائ نے قصیدہ کی تکنیک میں کچھ خوبصورت اضافے بھی کئے جس کی دو قسمیں ہیں۔ ضطابیہ اور تشبیہہ قصیدے کا آغاز ٫٫نشیب ٬٬ سے ہوتا ہے۔ یعنی شباب کی باتیں کرنا، یعنی حسن و عشق اور بہار و گلشن کے پر لطف مناظر و معاملات وغیرہ بیان کرنا۔ بعد میں ہر طرح کا مضمون جو قصیدے کے اصل مضمون سے بالکل مختلف ہو، تشبیب کہلانے لگا تھا۔
مثنوی فارسی کی ابتدائی شاعری کی اصل صنف ہے۔ یعنی ایسی نظم جس میں ہر شعر الگ الگ قافیے میں ہوتا ہے اور اس اعتبار سے یہ سب سے آسان صنف ہے، لیکن سامع کی توقع شاعر سے یہ ہوتی ہے کہ نظم میں اس کا مضمون اظہار و ابلاغ اور قوت بیان سب کی بھرپور نمائش ہو۔ مثنوی کسی مسلسل واقعے، داستان یا حکیمانہ بات کو تفصیل سے بیان کرنے کے لئے سب سے موزوں صنف شعر خیال کی جاتی ہے مثنوی میں اشعار کی تعداد کی کوئی پابندی نہیں۔ دو سے لے کر ہزار یا اس سے بھی زیادہ شعر اس میں کہے جا سکتے ہیں۔
پرانے دور میں مثنوی کے لئے چھوٹی بحریں مخصوص سمجھی جاتی تھیں، جن کی تعداد چھ ہے پرانے شاعر انہی چھ میں سے کسی بحر میں مثنویاں کہتے تھے۔ بیسویں صدی میں نسبتاً لمبی بحروں میں مثنویاں کہی جانے لگیں۔ جن کا آغاز غالباً علامہ اقبال کی نظموں سے ہوتا ہے۔
اوپر جوانی کی غزل جس کے معنی ٫٫ عورتوں سے باتیں کرنا٬٬ ہیں۔ ہلکے پھلکے اور مختصر اظہار جذبات کے اظہار کی راہ کا نام غزل تھا، یعنی ایک ایسے مجموعہ اشعار کا نام ہے جن کا قافیہ تو قصیدے کی طرح ایک ہی ہو لیکن ہر شعر یا مضمون الگ اور مکمل ہو، اور شاعر اپنے ٫٫ حقیقی٬٬ یا ٫٫ مجازی٬٬ عشق کے معاملات بیان کر سکے چونکہ غزل کی زبان اور اصطلاحات قریب قریب وہی رہیں جو پرانے دور سے چلی آتی تھیں اس لئے غزل کی لغت اور فرہنگ بھی مخصوص ہو گئی اور اس کا انداز بیان جلد مخصوص سانچوں میں ڈھل کر رہ گیا۔ الفاظ کی سلاست و شیرینی اور عبارت کی نرمی اس کے لئے ضروری قرار پائی۔
غزل اور شاعری میں سب سے مقبول اور عام صنف بن گئی بلکہ یہ وہ واحد صنف ہے جس میں ہر طرح کے مضامین کے باوجود اس کی ہیئت، مزاج اور اسلوب میں کوئی تغیر نہ ہوا۔
غزل کے پہلے شعر کے دونوں ہم قافیہ مصرعے مطلع کہلاتے ہیں بعض غزلوں میں ایک سے زائد مطلعے بھی ہوتے ہیں جو مطلع ثانی اور مطلع ثالث کہلاتے ہیں جس شعر میں شاعر اپنا تخلص لائے مقطع کہلاتا ہے غزل کے اشعار کی تعداد اگرچہ متعین نہیں تاہم عموماً پانچ اشعار سے کم اور گیارہ سے زائد اشعار سے غزل میں پسند نہیں کئے جاتے ہیں۔
قطعہ کوئی علیحدہ صنف سخن نہیں بلکہ ایک طرح کی غزل مسلسل ہی ہے۔ یعنی تمام اشعار میں ایک ہی مضمون بیان کیا جاتا ہے، پرانے شاعر مستقل صنف کے طور پر اس میں کسی ایک جذبے کا تفصیلی بیان کرتے تھے، اور اس میں مطلع کا ہونا ضروری نہ تھا۔ جو بعد ازاں کی رباعی بن کر رہ گیا یعنی چار مصرعوں کی مختصر نظم جس کا دوسرا اور چوتھا مصرع ہم قافیہ اور اس میں کوئی ایک مشترک، پرانے شاعر غزل، قصیدے یا مثنوی میں کوئی بات ایک شعر نہ کہہ سکتے تو اسے اگلے شعر یا اشعار تک بڑھا کر پورا کرتے ان اشعار کو قطعہ کہا جاتا تھا۔
If you born poor, its not your fault....But if you die poor, its your fault...."Bill Gates"


PakSTUDY © 2006 - 2021 | All Rights Reserved.