Library Sindh Study FG Study Punjab Study
PakStudy :Yours Study Matters

ڈاؤ بونیورسٹی کے لئے انٹری ٹیسٹ کل ایکسپو سینٹر میں ہو گا

Offline گل

  • **
  • 1045
  • +1/-2
  • Gender: Male


ڈاؤ بونیورسٹی کے لئے انٹری ٹیسٹ کل ایکسپو سینٹر میں ہو گا
   
کراچی (شبانہ شفیق … اسٹاف رپورٹر) ڈاؤ یونیورسٹی کے تحت میڈیکل کالجوں میں داخلوں کے لئے انٹری ٹیسٹ اتوار 29 جون کو پہلے سے طے شدہ اعلان کردہ وقت اور مقام یعنی ”ایکسپو سینٹر“ میں ہوں گے۔ داخلے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے طے کردہ میرٹ اصول کے مطابق ہی دئیے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار ڈاؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر مسعود حمید خان نے جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے انٹری ٹیسٹ سے متعلق بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ نے تمام صوبے میں میڈیکل کالجوں میں ایک ساتھ داخلوں کی خواہش کا اظہار ضرور کیا ہے لیکن انہوں نے ڈاؤ کے تحت میڈیکل کالجوں کے انٹری ٹیسٹ ملتوی کرنے کے متعلق کوئی حکم نہیں دیا ہے۔ انٹری ٹیسٹ کے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے پروفیسر مسعود حمید خان نے کہا کہ داخلوں کا انعقاد (انٹری ٹیسٹ سے لے کر میرٹ لسٹ کی تیاری تک) ایک طویل تھکا دینے والا مرحلہ ہوتا ہے۔ پچھلے سال کے تجربے کے بعد ہم نے سنڈیکیٹ کی میٹنگ اور محکمہ صحت کے اجلاس کے فیصلے جو اس سال کے اوائل میں ہوا یہ طے کیا تھا کہ اس سال ہم اپنے یہاں ٹیسٹ جلد لے لیں گے۔ لیکن میرٹ لسٹ انٹرمیڈیٹ کے رزلٹ کے بعد ہی تیار کی جائیگی۔ جس میں امیدوار کے رزلٹ میں 60 فیصد کے تناسب کو لازمی مدنظر رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ڈاؤ میڈیکل کے انٹری ٹیسٹ پر اعتراض کررہے ہیں وہ آغا خان میڈیکل کالج جو اپریل میں انٹری ٹیسٹ لے چکا ہے اور آئی بی اے پر جو 29 جون کو ہی انٹری ٹیسٹ منعقد کررہا ہے ان پر اعتراض کیوں نہیں کررہے ہیں۔ اعتراض کرنے والوں کو یہ بھی یاد کرنا چاہیے کہ پچھلے سال بھی ڈاؤ یونیورسٹی‘ لیاقت میڈیکل‘ چانڈکا میڈیکل کالج کے انٹری ٹیسٹ الگ الگ تاریخوں میں ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ دراصل انٹری ٹیسٹ ملتوی کروانے کے پیچھے ایک خاص مافیا سرگرم ہے۔ یہ مافیا ٹیوشن سینٹر مالکان ہیں۔ جلدی ٹیسٹ لینے کی وجہ سے ان کے کاروبار پر بھاری ضرب پڑی ہے۔ اس لئے وہ اس قسم کے حربے استعمال کررہے ہیں۔ وائس چانسلر نے کہا حقیقت یہ ہے کہ انٹری ٹیسٹ کا جلد انعقاد کا فائدہ سب سے زیادہ طلباء اور ان کے والدین کو پہنچے گا۔ طلباء نے ابھی ابھی انٹر کے امتحانات دئیے ہیں اس لئے انٹری ٹیسٹ کی تیاری کے لئے ان کو کسی ٹیوشن سینٹر کا سہارا نہیں لینا پڑے گا۔ اس طرح والدین بھاری مالی بوجھ سے بچ جائیں گے جب جلد ٹیسٹ کے انعقاد سے ہم اپنا تعلیمی سال جو اب سیمسٹر سسٹم میں تبدیل ہورہا ہے وقت پر شروع کر سکیں گے۔ پروفیسر مسعود حمید خان نے بتایا کہ انٹری ٹیسٹ میں تقریبا سوا 5 ہزار طلباء شریک ہوں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ انٹری ٹیسٹ کے امیدوار صبح 8 بجے سے پہلے (یعنی ٹیسٹ شروع ہونے سے 2گھنٹے پہلے) لازمی سینٹر پہنچ جائیں۔



شکریہ روزنامہ جنگ