Author Topic: کئی طلبا نے شکایت کی کہ ان کی رسائی آن لائن کلاسز تک نہیں، چیرمین ایچ ای سی  (Read 254 times)

Offline sb

  • Good Member Group
  • Hero Member
  • **
  • Posts: 29120
  • My Points +5/-0
  • Gender: Female

کئی طلبا نے شکایت کی کہ ان کی رسائی آن لائن کلاسز تک نہیں، چیرمین ایچ ای سی
ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ کئی طلبا نے شکایت کی کہ ان کی رسائی آن لائن کلاسز تک نہیں ہورہی، کئی علاقوں میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس کا مسئلہ بھی درپیش آتا رہا ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونی کیشن کا اجلاس ہوا۔

اجلاس کے دوران چیئرمین ایچ ای سی نے کہا کہ مختلف علاقوں میں ڈیٹا سینٹرز بنانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے، ٹیلی کام کمپنیوں نے ہماری درخواست پر انٹرنیٹ پیکجز کے نرخ کم کیے۔

انہوں نے کہا کہ ریوالونگ فنڈ کے ذریعے انٹرنیٹ ڈیوائسزکی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا، جبکہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن اس وقت وزارت تعلیم اور یو ایس ایف کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے۔

سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے فنڈز کو بڑھانا چاہیے، لائق  بچوں کے ساتھ ایچ ای سی کو تعاون کرنا چاہیے، فیس کا موجودہ اسٹرکچر بہت زیادہ ہے، جس کے 3 بچے پڑھ رہے ہیں اس کیلئے مشکل ہے۔

سینیٹر فدا محمد نے کہا کہ ملک بھر میں کتنی جامعات اب تک آن لائن کلاسز کا اجرا نہیں کرسکیں؟جس کے جواب میں ایچ ای سی حکام نے کہا کہ ملک بھرمیں 10 یونیورسٹیز اب تک آن لائن کلاسز کا اجراء نہیں کرسکیں۔

سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ میڈیکل اور انجینئرنگ کے اسٹوڈنٹس کو اگلی کلاس میں پروموٹ کیا گیا، اب یہ بتایا جائے پروفیشنل ڈگریوں کیلئے داخلے میں یہ طلبا کیا کریں گے؟۔

چیئرمین ایچ ای سی نے کہا کہ 15ستمبر تک تعلیمی اداروں کو نہیں کھولا جاسکتا، پروفیشنل ڈگریوں میں داخلوں کیلئے طلبا کو انٹری ٹیسٹ کے عمل سے گزرنا ہوگا، جبکہ یونیورسٹیز میں داخلوں کیلئے تمام جامعات کو گائیڈ لائنز جاری کردی ہیں۔

وزارت تعلیم کے حکام نے کہا کہ بلوچستان، جی بی، فاٹا، دیگرعلاقوں میں مسائل موجود ہیں، ڈیٹا سینٹر بنائے جائیں گے تو وہاں ہر اسٹوڈنٹ کی رسائی ہوگی۔

سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ کتابوں والا پلان نہ ہو، اس پر عمل بھی ہونا چاہیے، ابھی تک 5 ماہ ہونے کو ہیں لیکن معاملات ٹھیک ہوتے نظرنہیں آتے۔

 
حوالہ: یہ خبر روزنامہ جنگ کی ویب سائٹ پر مورخہ 18 جولائی 2020 کو شائع ہوئی
If you born poor, its not your fault....But if you die poor, its your fault...."Bill Gates"