Author Topic: پندرہ برس میں ایک بھی نیا کالج نہ بنا  (Read 198 times)

Offline sb

  • Good Member Group
  • Hero Member
  • **
  • Posts: 29120
  • My Points +5/-0
  • Gender: Female
پندرہ برس میں ایک بھی نیا کالج نہ بنا
« on: September 28, 2020, 01:11:29 PM »

پندرہ برس میں ایک بھی نیا کالج نہ بنا
کراچی :سرکاری کالجوں میں داخلوں سے محروم ہزاروں طلبہ نجی اداروں کا رخ کرنے پر مجبور، بھاری فیسیں تعلیم کے حصول میں رکاوٹ، قومیائی گئی عمارتوں میں کاروبار ترجیحمیٹرک کے ڈیڑھ لاکھ سے زائدطلبہ کامیاب، محکمہ کالجز نے ایک لاکھ 16 ہزار 340 نشستیں مختص کیں، سینٹرلائزڈ پالیسی پر168میل وفی میل کالجز میں داخلے جاری

شہر میں گزشتہ 15 برس سے نئے سرکاری کالجوں کی تعمیر نہ ہونے کے باعث ہزاروں طلبا و طالبات نجی کالجز میں داخلہ لینے پر مجبور ہوں گے، جبکہ قومیائے گئے کالجز میں مالکان نے اپنی عمارتوں کی تعلیمی حیثیت ختم کر کے کاروبار کو ترجیح دینا شروع کر دی ہے، جس کے نتیجے میں حالیہ دنوں میں میٹرک کے امتحانات پاس کرنے والے ہزاروں طلبا و طالبات کے داخلے نہ ہو سکیں گے۔ صرف نجی کالجز کی بھاری بھرکم فیسیں ادا کرنے والے طلبا و طالبات ہی تعلیم حاصل کرسکیں گے۔ یاد رہے کہ سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان کے دور میں کراچی میں 32 کالجوں کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا، جنہیں دوسرے سٹی ناظم مصطفی کمال کے دور حکومت میں مکمل کیا گیا، اس کے بعد 15 برس میں ایک بھی نیا کالج تعمیر نہیں کیا جا سکا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قومیائے گئے کالجز واپس مالکان کے حوالے کئے جانے کے بعد تعلیمی سرگرمیاں بھی کم ہو گئی ہیں، قومیائی گئی عمارتوں کے مالکان نے تعلیمی سرگرمیاں ختم کرکے ان کی جگہ شاپنگ مالز اور دیگر کاروباری سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔ واضح رہے کہ سندھ حکومت کے محکمہ کالجز نے گیارہویں جماعت میں داخلوں کے خواہشمند طلباو طالبات کی 52 ہزار سے زائد نشستیں کم کردی ہیں۔ میٹرک بورڈ کراچی سے ایک لاکھ 68 ہزار 880 طلبہ کامیاب قرار دیئے گئے ہیں جبکہ محکمہ کالجز نے ایک لاکھ 16 ہزار 340 نشستیں مختص کی ہیں۔ سینٹرلائزڈ داخلہ پالیسی کے تحت ایک سو 68 میل اور فی میل کالجز میں داخلوں کا آغا ز ہوگیا ہے ، جبکہ گیارہویں جماعت کے لیے کراچی کے 54 ہزار 810 لڑکوں کے لیے نشستیں رکھی گئی ہیں۔ گیارہویں جماعت میں داخلے کی خواہشمند لڑکیوں کے لئے 61 ہزار 530 نشستیں رکھی گئی ہیں۔ لڑکوں کے لیے پری میڈیکل اور لڑکیوں کے لیے پری انجینئرنگ کی نشستیں کم مختص کی گئی ہیں۔ میل طالب علموں کے لیے 5 ہزار 490، جبکہ طالبات کے لئے 17 ہزار 6 سو 35 پری میڈیکل کی نشستیں مختص کی گئی ہیں، طالبات کے لیے 8 ہزار 4 سو 65 جبکہ میل طالب علموں کے لیے پری انجینئرنگ کی 20 ہزار 940 نشستیں مختص ہیں۔
حوالہ: یہ خبر روزنامہ دنیا کی ویب سائٹ پر مورخہ 28 ستمبر 2020 کو شائع ہوئی
If you born poor, its not your fault....But if you die poor, its your fault...."Bill Gates"