Author Topic: لاہور کالج میں پنجابی ادب اور ماں بولی کے موضوع پر عالمی کانفرنس کا انعقاد  (Read 167 times)

Offline sb

  • Good Member Group
  • Hero Member
  • **
  • Posts: 29120
  • My Points +5/-0
  • Gender: Female

لاہور کالج میں پنجابی ادب اور ماں بولی کے موضوع پر عالمی کانفرنس کا انعقاد
طاہر جمیل: لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی میں پنجابی ادب اور ماں بولی کے موضوع پر عالمی کانفرنس کا انعقاد، گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا ہے کہ پشتون، بلوچی، سندھی کا نعرہ لگانے والے پاکستانیوں کو ملک کے خلاف تصور کرنے کا رویہ ختم کرنا ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں وائس چانسلر ڈاکٹر بشری مرزا، صدر شعبہ پنجابی ڈاکٹر مجاہدہ بٹ، بھارت کی پنجاب یونیورسٹی سے ڈاکٹر دھنونت کور، اوساکا یونیورسٹی جاپان سے ڈاکٹر مرغوب حسین نے شرکت کی۔
 گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کا کہنا تھا کہ ہماری ماں بولی ہر طوفان جھکڑ کا مقابلہ کرتی ہے، پنجابی زبان دنیا کی دوسری زبانوں کے ساتھ قدم ملائے کھڑی ہے، یہ زبان ہمارا فخر اور مان ہے۔
 انھوں نے کہا کہ اگر کوئی بلوچ ہے یا پشتون ہے، سندھی ہے تو فخر کرنا فطری ہے، ہمیں یہ رویہ تبدیل کرنا ہوگا کہ اگر کوئی بلوچی، پشتون، سندھی کا نعرہ لگائے تو وہ محب الوطن نہیں رہتا۔
 گور نر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا کہ گور نر ہاؤس میں ''کورونا ہیروزوال'' کا جلد افتتاح صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کر یں گے، پنجابی کلچر کے فروغ   کے لئے  یونیورسٹیز میں خصوصی اقدامات کیے جائیں گے۔

 گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا نہیں ہوا، یہ بات اب یورپ تک پھیل چکی ہے، پنجاب میں جب ایم اے پنجابی کا اجراء ہوا تو زبان کی ترویج ہوئی، پنجابی زبان 1971ء کے بعد شہری علاقوں تک بھی پھیل گئی۔
 وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹربشری مرزا کا کہنا تھا کہ ماں بولی سے ہمارا رشتہ پرانا ہے، پنجابی پنجاب کی زرخیز زمین کی زرخیز زبان ہے۔
حوالہ: یہ خبر روزنامہ سٹی 42 کی ویب سائٹ پر مورخہ 14 اکتوبر 2020 کو شائع ہوئی
If you born poor, its not your fault....But if you die poor, its your fault...."Bill Gates"